خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 676 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 676

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۶۷ سال ۱۹۳۶ء اس تحریک سے میری غرض یہ ہے کہ دو آدمیوں میں جو فرق ہے یعنی ایک اپنے آپ کو آدمی سمجھتا ہے اور دوسرا فرعون اِسے مٹا دیا جائے اور دونوں ہی آدمی بن جائیں ۔ حضرت خلیفہ اول کا ایک لطیفہ یاد ہے آپ کے پاس بعض شاگرد بھی بیٹھے رہتے تھے اور شاگردوں میں سے بھی بعض اپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا کرتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کسی مریض کو دوالگانے کیلئے فرماتے کہ کوئی تنکا وغیرہ لاؤ یا کوئی اور کام بتاتے تو بعض دفعہ اگر وہی شاگرد موجود ہوتے جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے تو وہ بیٹھے رہتے ۔ اور آپ جب دریافت فرماتے کہ فلاں چیز ابھی آئی یا نہیں تو وہ کہہ دیتے کہ حضور ! کوئی آدمی آتا ہے تو تا ہے تو منگوا لیتے ہیں ۔ اس پر آپ فرماتے کہ تھوڑی دیر کیلئے آپ ہی آدمی بن جائیں ۔ تو زندگی کے سادہ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ آدمی آدمی نہیں رہے بلکہ بعض آدمیت سے نکل گئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سارے ہی آدمی بن جائیں اس لئے یہ تحریک ہمیشہ جاری رہے گی ورنہ مذہب اپنی اصلی شکل پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس لئے اس تحریک کے مالی حصہ کے سوا باقی سب تحریکیں دائمی ہیں اور حقیقت میں وہ زیادہ مقدم ہیں اور چونکہ اس سال کی تحریک کے اب صرف دو ماہ باقی رہ گئے ہیں اس لئے جن دوستوں نے غفلت کی ہے وہ اب جلد کوتاہیوں کو پورا کریں تا وقت پورا ہونے کے بعد ان کے دل ملامت نہ کریں۔ میں تو کوئی ملامت نہیں کروں گا کیونکہ طوعی تحریک ہے مگر ان کے دل ضرور ملامت کریں گے۔ پس پیشتر اس کے کہ دل ملامت کریں انہیں چاہئے کہ کوشش کریں تا سال کے اختتام پر وہ خوش ہوں اور کہہ سکیں کہ پہلا بوجھ تو ہم اُٹھا چکے اب نئے سال کا اُٹھانے کو تیار ہیں ۔ ( الفضل ۱۶ اکتوبر ۱۹۳۶ء) ل البقرة : ١٢ ۳۲ بخارى كتاب المغازى باب حديث كعب بن مالک صفحه ۷۴۹ تا ۷۵۲ حدیث نمبر ۴۴۱۸ مطبوعه دار اسلام رياض ۱۹۹۹ء الطبعة الثانية تذکرہ ، صفحہ ۳۹۔ ایڈیشن چہارم ۲۰۰۴ء