خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 668 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 668

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۵۹ سال ۱۹۳۶ء صلى الله ۔ ہی ہیں جیسے روٹی پکانے والا اُپلے استعمال کرتا ہے۔ اُپلے کی حیثیت سوائے اس کے کیا ہے کہ وہ جلتا ہے اور راکھ ہو جاتا ہے۔ پس انسان تو محض واسطہ بنتا ہے ورنہ جس حقیقت کو اللہ تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے وہ اجسام سے تعلق ہی نہیں رکھتی انسان کا تعلق تو اس سے صرف اتنا ہی ہوتا ہے جتنا روئی پکانے کیلئے اُپلے کا ۔ ورنہ جو کام خدا تعالیٰ نے کرنا ہے اُسے کوئی روک نہیں سکتا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر میں مؤمنوں کو بیدار کرنا چھوڑ دوں تو یہ کام رک جائے گا ، یا اگر غافلوں کو چست کرنا چھوڑ دوں تو یہ کام نہ ہوگا ، اگر سوتوں کو بیدار نہ کروں تو یہ کام رہ جائے گا؟ ہرگز نہیں ۔ وہ میری یا کسی اور کی ذات سے تعلق نہیں رکھتا وہ ہر حال میں ہو گا مگر انسان حریص ہوتا ہے کہ وہ اور اُس کے دوست ہوگا فائدہ اُٹھائیں اس لئے میں چاہتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ مجھے بھی اور میرے دوستوں کو بھی اس میں خدمت کا موقع مل جائے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہم پر بھی ہو جائے ۔ اس سلسلہ میں وعظ و نصیحت کا یہی مطلب ہے کہ جیسے کوئی خزانہ لٹانے لگا ہو تو ایک دوست جسے اس کا علم ہو جائے وہ دوسرے دوستوں کو بھی اطلاع کر دے کہ آکر جھولیاں بھر لو۔ رسول کریم ﷺ نے صحار نے صحابہ سے ایک سے ایک بیعت رضوان لی تھی جو ایک بیری کے درخت کے نیچے لی گئی تھی اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے حضرت عثمان کو صلح کا پیغام دے کر مکہ بھیجا تھا وہاں ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے ان کو ٹھہرالیا اور یوں مصالحت کی باتیں بھی لمبی ہو گئیں اس لئے جس وقت تک ان کی واپسی کا اندازہ تھا (ضمناً میں حضرت عثمان کے اخلاص کا ذکر بھی کر دیتا ہوں ۔ حضرت عثمان جب مکہ میں گئے تو ان کے دوستوں نے کہا کہ اب آپ آ تو گئے ہیں عمرہ کر لیں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہاری فوجیں رسول کریم ﷺ کو تو باہر روکے ہوئے ہوں اور میں عمرہ کرلوں ۔ میں اگر کروں گا تو آپ کے ساتھ کروں گا ورنہ نہیں ) ۔ تو اُدھران کی واپسی میں دیر ہوئی اور ادھر بعض شرارت پسندوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت عثمان قتل کر دیئے گئے ہیں اور منافقوں نے جھٹ یہ خبر پھیلا دی تا رسول کریم جوش میں آکر حملہ کر دیں ۔ مگر آپ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے حملہ تو نہ کیا مگر چونکہ ہوشیار رہنا ضروری تھا آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا کہ میں تم سے بیعت لینا چاہتا ہوں ۔ یہ بیعت اسلام کی بیعت کے علاوہ ہو گی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت عثمان جو میرے ا جو میرے ایلچی تھے شہید ہو گئے ہیں تو ہم ان