خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 665

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۵۶ سال ۱۹۳۶ء حقیقتا عذر نہیں کہلا سکتے صاف کہہ دوں کہ غلطی ہو گئی ہے آپ جو چاہیں مجھ سے معاملہ ہوگئی کریں ۔ چنانچہ یہ خیال آنے پر میں نے اقرار جرم کا فیصلہ کر لیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے منافقوں کے ساتھ شامل ہونے سے بچا لیا۔ چنانچہ میں گیا اور رسول کریم ﷺ سے صاف طور پر کہہ دیا کہ میری سستی صلى الله صلى الله عروسة اور غفلت تھی کہ میں غزوہ میں شامل نہ ہوا اور نہ کوئی حقیقی عذر نہیں تھا۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم تمہارے متعلق نہ آئے تم سے قطع تعلق کیا جائے گا۔ اس صحابی کا نام کعب بن مالک تھا وہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اس حکم سے سخت تکلیف پہنچی کیونکہ مدینہ میں سب مسلمان ہی تھی اور جو منافق تھے ان میں سے بھی کسی کو جرات نہ تھی کہ ان سے بات چیت کرے یہاں تو میں نے دیکھا ہے کہ جن لوگوں سے بات چیت منع ہے وہ محلوں میں احمدیوں کے مکانوں پر بھی چلے جاتے ہیں محلے والے معلوم نہیں سوئے رہتے ہیں کہ ان کو پتہ ہی نہیں لگتا۔ یہاں کے بعض احمدی سانپوں کو پالتے ہیں مگر وہ یا د رکھیں کہ یہ سانپ نہ خدا کو ڈس سکتے ہیں نہ اُس کے رسول کو اور نہ خلیفہ کو ۔ یہ انہی کو ڈسیں گے جو ان کو پالتے ہیں ۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ ہیں کیونکہ جسے اللہ تعالٰی اپنی حفاظت میں لے لے اُسے کون ڈس سکتا ہے یہ انہیں کو ڈسیں گے جنہیں وہ ڈس سکتے ہیں اور افسوس کہ وہ دیکھتے ہوئے ان سانپوں کی حرکات پر اغماض سے کام لیتے ہیں ۔ غرض مدینہ میں کوئی منافق بھی ان سے بات چیت نہ کر سکتا تھا۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس حکم کے چند دن کے بعد معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیوی بچے بھی ان لوگوں سے جدا ہو جائیں ۔ ہم تینوں میں سے ایک صحابی بوڑھے تھے ان کی بیوی رسول کریم کے پاس گئی اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! میرا خاوند تو پہلے ہی مر چکا ہے نہ کھانا کھاتا ہے نہ سوتا ہے پھر بوجہ ضعیف العمر ہونے کے ہر وقت مدد کا محتاج ہے، میاں بیوی کے تعلقات کے قابل تو وہ پہلے ہی نہ تھا اگر آپ اجازت دیں تو میں کھانے پینے میں اُس کی مدد کروں ۔ آپ نے فرمایا اچھا اتنی اجازت ہے۔ اس پر مجھے خیال آیا کہ میں بھی کیوں نہ اپنے لئے ایسی اجازت حاصل کرنے کا انتظام کروں مگر پھر خیال آیا کہ وہ بوڑھا ہے میں جوان ہوں میرے لئے ایسا کرنا مناسب نہیں ۔ اس پر میں نے بیوی سے کہا کہ تو میکے چلی جا ایسا نہ ہو کہ میں تجھے بُلاؤں اور تو جواب دے دے۔ مجھے کسی اور کے متعلق تو خیال ہی نہ تھا کہ مجھ سے سے بات بات چیت چیت کرے کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں رسول کریم تا ﷺ کی محبت صلى الله عروسه الله