خطبات محمود (جلد 17) — Page 658
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ کی آخری گھڑیاں تھیں۔آخر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور رسل کر یم ﷺ کو فرمایا کہ ان کی غلطی معاف کر دی جائے سے۔تو مؤمن اس قسم کی تو بہ نہیں کرتا جیسی کہ منافق کرتا ہے (اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں کسی آئندہ خطبہ میں یہ بتاؤں گا کہ مؤمن کی تو بہ اور منافق کی تو بہ میں کیا فرق ہوتا ہے کہ ایک کو سچا تسلیم کیا جاتا ہے اور دوسری کو جھوٹا کہا جاتا ہے اور کیوں ایک کو فوراً تو بہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے اور دوسرے کی فوری تو بہ کو منافقت کی علامت قرار دیا جاتا ہے )۔مؤمن اگر غفلت کرے تو سزا کیلئے ہر وقت تیار رہتا ہے وہ جانتا ہے کہ اصل معافی تو تکلیف اور قربانی کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے لیکن منافق جھٹ معذرت کرتا ہے۔اُس کا پہلا پینترا یہ ہوتا ہے کہ بالکل غلط ہے دوسرا یہ کہ ہاں یاد آ گیا میں نے کہا تھا اور تیسرا یہ کہ اب میری تسلی ہوگئی ہے کمزوری کی گھڑیاں بھی انسان پر آہی جاتی ہیں اب پھر میرا ایمان تازہ ہو گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ایمان کبھی اُس کے دل میں تھا ہی نہیں۔یا اگر کبھی تھا تو مدت ہوئی رُخصت ہو چکا ہے مگر منہ سے وہ روز اُسے تازہ کرتا ہے۔پس مؤمن اور منافق میں یہ فرق ہے کہ مؤمن غلطی کرتا ہے تو سزا کو برداشت کرتا ہے مگر منافق جھوٹ بولتا اور معذرتیں کرتا ہے۔منافق کو پکڑنا مشکل نہیں مگر اس کیلئے دانائی اور بیدار مغزی کی ضرورت ہے جو افسوس ہے کہ ہمارے دوستوں میں بہت کم ہے اگر کبھی میں منافقین کیلئے سفارش کرنے والوں کے نام اُن بورڈوں پر لکھوا دوں جو امور عامہ نے لگوار کھے ہیں تو دوست حیران رہ جائیں گے کہ کیا سب کو انہی سے اخلاص تھا۔بعض حالات میں میں جانتا ہوں کہ یہ اُس منافق کی چالبازی کا نتیجہ ہوتا ہے اور چونکہ روشن دماغی ان دنوں کم ہے اس لئے دوست اس کے قابو میں آ جاتے ہیں۔ان کے عقل کا توازن خراب کرنے کیلئے دو آنسو گرا دینا دوسرد آہیں بھر لینا یا دو قسموں کا کھا لینا کافی ہوتا ہے پھر وہ جو کہے درست مان لیتے ہیں۔تو منافق اعتراض کرتے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ایسی جگہ جہاں کوئی جواب دینے والا نہ ہو۔ورنہ جواب دے سکنے والوں کے سامنے وہ ایک اعتراض بھی کر کے دیکھیں پھر انہیں معلوم ہو کہ کس طرح انہیں جو تے اُٹھا کر بھاگنا پڑتا ہے۔ہم نے ایک کام کرنا ہے بلکہ ہم نے کیا ہمارے خدا نے کرنا ہے اور اس کیلئے ہم تو ایسے