خطبات محمود (جلد 17) — Page 639
خطبات محمود ۶۳۹ سال ۱۹۳۶ سے ترقی دے کر زمین کو قابل نشو نما بنایا ، پھر اس میں سے سبزیاں نکالیں ، پھر جانور پیدا کئے ، پھر انسان کو اس سے ترقی دے کر پیدا کیا، پھر انسانی دماغ کو ترقی دے کر کامل بنایا، اب اس قدر وسیع و قانون اور نظام کے ماتحت پیدا ہونے والے انسان کی نسبت تم کیونکر کہہ سکتے ہو کہ اس کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کا کوئی مقصد ہی نہ تھا۔دوسری دلیل تجربہ کی دی کہ علاوہ ھیئتوں کے اختلاف کے انسانوں کی حالتوں میں بھی اختلاف ہے ہر نیک اور بدعمل کا بدلہ ظاہر یا مخفی طور پر اس دنیا میں ملتا ہوا نظر آتا ہے اور جب یہ نظارہ ہر جگہ نظر آ رہا ہے ہے تو تم کیونکر کہہ سکتے ہو کہ انسان کو بلا مقصد پیدا کیا گیا ہے۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے جزاء وسزا ایک خاص حد تک نازل ہو رہی ہے تو پھر قانونِ قدرت کے اس ظہور کی موجودگی میں انسانی پیدائش کو عبث کیونکر کہا جاسکتا ہے اور تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ کا یہ فعل جو اتنے لمبے عرصہ سے جاری ہے اور جس کی ہر زمانہ میں نگرانی کی جارہی ہے محض ایک کھیل ہے۔اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَاقًا وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا۔کیا تم اپنی طرف اور کارخانہ عالم کی طرف نہیں دیکھتے کیا یہ سب کچھ اتفاق کے نتیجہ میں پیدا ہو گیا ہے؟ اطوار کی پہلی دلیل کے ماتحت انسان کہ سکتا تھا کہ یہ سب کچھ اتفاق ہے جیسے آجکل سائنسدن کہتے ہیں کہ دنیا کا پیدا ہونا ایک اتفاقی امر ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے شک بعض باتوں میں اتفاق ہو سکتا ہے لیکن کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس دنیا میں لاکھوں کروڑوں ستارے ہیں اور یہ سب کے سب طباقاً ہیں یعنی ایک قانون کے ماتحت چل رہے ہیں۔کبھی اتفاق بھی ایک قانون کے ماتحت ہوا کرتا ہے۔اب اس وقت جمعہ میں اتنے آدمی بیٹھے ہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب اتفاقی طور پر آکر بیٹھے ہیں۔ہر شخص جو اس اجتماع پر نظر ڈالے گا وہ یہی کہے گا کہ کوئی خاص بات ہے یا کوئی خاص دن ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح اکٹھے ہو کر بیٹھے ہیں اور اگر کوئی غیر مسلم ہم سے پوچھے تو ہم اُسے بتا دیں گے کہ آج جمعہ ہے جو ہماری عبادت کا دن ہے اور ہم سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے جمع ہوئے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ اِس امر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کا رخانہ عالم پر نگاہ ڈالو سارے کے سارے کو تم طباق پاؤ گے یعنی ایک مطابقت سب میں دیکھو گے اور ہر چیز میں ایسی مطابقت کا پایا جانا قانون پر دلالت