خطبات محمود (جلد 17) — Page 627
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۱۸ سال ۱۹۳۶ء باتیں ہی باتیں ہیں کرتے کراتے کچھ نہیں تو وہ ڈرکس طرح سکتے ہیں ۔ نیشنل لیگ کو اس عرصہ میں سکتے کو نے بار بار کہا کہ تم اسلام اور قانون کی حدود کے اندر رہتے ہوئے بہت کچھ کر سکتے ہو نے کچھ نہیں کیا۔ اگر وہ اسلام اور قانون کے اندر رہتے ہوئے کچھ کرتے اور انہیں ناکامی ہوتی تو وہ مجھ پر الزام لگاتے مگر یہاں یہ حالت ہے کہ پہلے کور بنی اور پھر جس طرح غبارہ اُڑتا ہے وہ کور غائب ہو گئی ۔ اب مولوی عطاء اللہ صاحب کے آنے کا خیال تھا تو پھر کو ر ظہور میں آگئی ۔ ایسی کو رجو دو مولوی عطاء اللہ صاحب کے آنے پر بنتی ہے ” بخاری کور“ ہی کہلا سکتی ہے احمدی کور تو نہیں کہلا سکتی ۔ میں چونکہ اب فیصلہ کر چکا ہوں کہ نیشنل لیگ کے افراد سے سکیم کی بات نہیں کروں گا کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے افراد تو نہیں لیکن اگر نیشنل لیگ کا نمائندہ وفد میرے پاس آئے تو میں اب بھی کام کرنے کیلئے ایک سکیم اس کے سامنے رکھ سکتا ہوں ۔ جوں جوں ترقی ہوتی جائے گی اس سکیم میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا اور وہ سکیم ایسی ہوگی جو اسلام اور رائج الوقت قانون کے مطابق ہوگی ۔ اب تک میں نے اس سکیم کو اس لئے ان کے سامنے نہیں رکھا کہ میں چاہتا تھا کہ وہ اپنی عقل استعمال کریں لیکن چونکہ انہوں نے اپنی عقل سے کام نہیں لیا اس لئے وہ اب بھی میرے پاس آجا ئیں میں انہیں سکیم بتا دوں گا۔ اسی سلسلہ میں میرے پاس شکایت کی گئی ہے کہ نیشنل لیگ کے حال کے جلسہ کے بعد ممبروں میں ایسی باتیں دیکھنے میں آئی ہیں جو اسلام اور احمدیت کے وقار کے خلاف ہیں مثلاً کاغذ اور احمد اور کی ٹوپیاں ہیں جو سروں پر پہن رکھی ہیں اور ان پر کچھ فقرے لکھے ہوئے ہیں جن کا کچھ بھی فائدہ نہیں اور پھر وہ ٹوپیاں بعض معذوروں کو پہنا دی گئیں ہیں جیسے اسی قسم کی ٹوپی میاں شمس الدین صاحب معذور کے سر پر بھی رکھ دی گئی ہے۔ شکایت کنندہ صاحب کہتے ہیں یہ ایسی ہی بات ہے جیسے زمیندار اخبار والے ایک معمولی حیثیت کے شخص کا نام اخبار کی پیشانی پر بطور ایڈیٹر لکھ دیتے تھے اور خود تمام کام کرتے تھے ۔ جس وقت مضمون کی بناء پر جیل میں جانے کا وقت آتا تو وہ معمولی حیثیت کا آدمی اندر چلا جاتا اور ایڈیٹر صاحب باہر دندناتے پھرتے۔ اسی قسم کی حرکت میاں شمس الدین صاحب معذور کے سر پر ٹوپی رکھ کر کی گئی ہے اور ٹوپی پہنانے والے نے سمجھا ہے کہ اگر جیل میں جائے گا تو شمس الدین جائے گا لکھنے والا تو گھر بیٹھا رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں