خطبات محمود (جلد 17) — Page 62
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۳ سال ۱۹۳۶ء لوگ شور مچانے لگیں کہ ڈاکٹر جھوٹ بولتا تھا کہ یہ بیمار ہے یہ شخص تو ہسپتال سے اچھا بھلا باہر نکلا ہے۔ کوئی ظالم سے ظالم گورنمنٹ بھی دفعہ ۱۴۴ کبھی عمر بھر کیلئے نہیں لگایا کرتی یہ لوگ ایسی باتیں کر کے دراصل لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں ۔ ان کا طریق ہی یہ ہے کہ اپنے ساتھیوں کو احمق بنائیں ورنہ دفعہ ۱۴۴ کبھی ہمیشہ کیلئے نہیں لگا کرتی ۔ کانگرس پر یہ دفعہ سینکڑوں مرتبہ لگائی گئی اور پھر ضرورت یا میعا دختم ہو جانے پر منسوخ کر دی گئی۔ حکومت کو جہاں کوئی خطرہ ہوتا ہے وہاں یہ دفعہ لگا دیتی ہے اور جب خطرہ کم ہو جائے تو واپس لے لیتی ہے۔ شہید گنج کا واقعہ جب لاہور میں ہوا تو حکومت نے یہ دفعہ لگا دی اور جب جوش ٹھنڈا ہو گیا تو واپس لے لی۔ اب پھر جو فساد ہوا تو پھر لگا دی ۔ پس قادیان میں اس کی منسوخی سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حکومت کو شکست ہوگئی یا یہ کہ اب وہ احمد یوں کی دشمن ہو گئی ہے بالکل غلط ہے۔ اس طرح تو مولوی عطاء اللہ صاحب جب چار ماہ کی قید کاٹ کر آئیں گے تو وہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ حکومت نے شکست مان لی اور ہتھیار ڈال دیئے حالانکہ سزا ہی چار ماہ کی ہے اس کے بعد ایک دن بھی حکومت انہیں قید میں نہیں رکھ سکتی ۔ اسی طرح دفعہ ۱۴۴ اور ۳۳ ۔ امینڈ منٹ ایکٹ بھی ضرورت کے ماتحت ہوتا ہے جب اس کی ضرورت نہ رہے تو اسے واپس لے لیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس قسم کے پروپیگنڈے سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ احرار جیت گئے حالانکہ اس دفعہ نے تو بہر حال منسوخ ہو جانا تھا جس طرح کہ چار ماہ پورے ہونے کے بعد حکومت مجبور ہے کہ مولوی عطاء اللہ صاحب کو چھوڑ دے ۔ اسی طرح اس دفعہ کی واپسی کا یہ مطلب ہے کہ اب حکومت کو ایسا اندیشہ نہیں رہا۔ ایک وقت لوگوں میں جوش ہوتا ہے اُس وقت حکومت بھی ضروری تدابیر اختیار کرتی ہے پھر وہ جوش ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو ان کی ضرورت نہیں رہتی ۔ اسی سلسلہ میں یہ لوگ مشہور کر رہے ہیں کہ احمدیوں نے تو بہت ناک رگڑی کہ حکومت اسے جاری رکھے مگر حکومت نے نہ مانا حالانکہ یہ بھی سراسر جھوٹ ہے۔ میں تو حیران ہوتا ہوں کہ جو افسر حالات سے واقف ہیں وہ ان کے جھوٹ پر اپنے دلوں میں کیا کہتے ہوں گے وہ ضرور ہنستے ہوں گے ۔ اب میں بتاتا ہوں کہ یہ الزام کس قدر غلط ہے اور اب اس کے چھپانے کی بھی ضرورت نہیں ۔ جن دنوں یہ گرفتاریاں ہو رہی تھیں میں نے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو مسٹر پکل چیف سیکرٹری کے پاس بھیجا کہ ہماری یہ خواہش نہیں کہ ہر احراری کو اس پروپیگنڈا کے ماتحت گرفتار کیا جائے ۔ انہوں نے