خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 616

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ سال ۱۹۳۶ء جاپان میں کارخانے کھول لئے ، تجارتیں شروع کر دیں اور جاپان میں اثر پیدا کرنا شروع کر دیا۔ اثر کر ایک دفعہ جاپانی امریکن تاجروں سے لڑ پڑے۔ امریکہ والوں کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے جہاز بھیجے جاپانیوں پر گولہ باری کی اور نہایت کڑی شرائط جاپانیوں سے منوائیں ۔ جاپانیوں کو اس سے ایسا ہی دُکھ پہنچا جیسا کہ پچھلے سال ہمیں پہنچا تھا انہوں نے فیصلہ کر لیا اب ہم اپنی عزت قائم کر کے رہیں گے۔ وہ خوش قسمت قوم تھی اُس کے بڑے بڑے نواب جمع ہوئے اور انہوں نے کہا جب یورپین اقوام کے نزدیک ہماری چوڑھے اور چمار جیسی بھی عزت نہیں تو ہماری نوابیاں کس کام کی ہیں ۔ سب نے کہا ہم اپنی نوابیاں چھوڑتے ہیں اور سارے اختیارات ایک بادشاہ کو دیتے ہیں چنانچہ سب نے اپنی نوابیاں چھوڑ دیں اور پُرانے شاہی خاندان کے ایک آدمی کو جو عبادت گاہ میں بیٹھا تھا اپنا بادشاہ بنالیا۔ گویا پہلا تغییر انہوں نے یہ کیا۔ اس کے بعد ان میں سے نوجوان نکلے اور انہوں نے قسمیں کھائیں کہ ہم اپنے ملک میں واپس نہیں آئیں گے جب تک یورپ اور امریکہ سے وہ ہنر سیکھ کر نہ آئیں جن ہنروں کی وجہ سے وہ ہمارے ملک میں طاقت پکڑ رہے ہیں ۔ ۔ چنانچہ کسی نے جہاز رانی سیکھنی شروع کر دی، کسی نے کارخانوں کا کام سیکھنا شروع کر دیا، اس طرح کوئی کسی کام میں لگ گیا اور کوئی کسی میں اور دس پندرہ سال باہر رہ کر جب وہ اپنے ملک میں آئے تو انہوں نے ہر قسم کے کارخانے جاری کر دیئے۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ جاپانی مد بر کہتا ہے ) کہ ہماری قوم سورہی تھی جب ہم جاگے تو ہم نے دیکھا ہمارے ملک میں یورپین قو میں اپنا اثر بڑھا رہی ہیں اور وہ اپنے آپ کو مہذب کہتے ہیں اور ہمیں غیر مہذب ۔ تب ہم نے سوچا کہ شاید تہذیب کارخانے جاری کرنے کا نام ہے اور ہم نے اپنے ملک میں ہر قسم کے کارخانے جاری کر دیئے اور ہم نے یورپ کی طرف فخر سے دیکھا اور سمجھا کہ اب وہ کہے گا کہ جاپان بھی مہذب ملک ہے مگر ہم نے دیکھا کہ مغرب نے اپنا سر ہلا دیا اور کہا کہ جاپانی غیر مہذب ہیں ۔ وہ کہتا ہے کہ ہم نے سمجھا شاید چونکہ یہ باہر سے ہمارے ملک میں کپڑ الاتے ہیں شاید تہذیب دوسرے ملکوں سے تجارت کرنے کا نام ہے پس ہم نے کہا کہ ہم بھی اپنی چیزیں باہر بھیجیں گے اور دنیا میں مہذب کہلائیں گے۔ چنانچہ ہم باہر نکلے اور ہم نے ہر جگہ ان کی منڈیوں کو شکست دی اور دور دور تجارت کی اور خیال کیا کہ مغرب ہماری اس ترقی کو دیکھ کر کہے گا کہ جاپان مہذب ملک ہے