خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 610

خطبات محمود ۶۱۰ سال ۱۹۳۶ ہمیں بُری نہ گتی ہوں۔اگر گالیاں دینا جائز ہے تو کوئی دے سب کیلئے جائز ہے اور اگر گالیاں دینا ہے جائز نہیں تو کسی کیلئے بھی جائز نہیں خواہ مولوی عطاء اللہ صاحب دیں یا مولوی عنایت اللہ۔پس ہمارے لئے یہ کافی نہیں کہ مولوی عطاء اللہ صاحب کو قادیان آنے سے روک دیا جائے ہاں اگر گورنمنٹ نے ایسا کیا ہے تو اس حد تک ہم اس کی تعریف ضرور کریں گے۔میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہمیں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا چاہئے اور ہمارا طریق یہ ہونا چاہئے کہ جو بیچ ہوا سے ہم جھوٹ نہ کہیں اور جو جھوٹ ہوا سے ہم سچ نہ کہیں اس کے مطابق ہم گورنمنٹ کے اس فعل کی اگر اس نے واقعہ میں ایسا کیا ہے تعریف کریں گے ہاں بقیہ حصہ کی مذمت کریں گے کیونکہ اس نے کی گالیوں کے انسداد کیلئے کوئی قدم نہیں اُٹھایا جو جماعت احمد یہ اور اس کے بزرگوں کو احرار کے دوسرے نمائندے دیتے ہیں۔بعض دوست غلطی سے گورنمنٹ کے اچھے کام کی تعریف کرنے سے بھی ڈرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے کہہ دیا کہ گورنمنٹ نے یہ کام اچھا کیا ہے تو ہم جو گورنمنٹ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہمارے حقوق کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتی اس الزام کی قوت جاتی رہے گی لیکن میں سمجھتا ہوں طاقت ہمیشہ سچائی میں ہوتی ہے دو رُخ طریق میں نہیں ہوتی اور نہ حق کو چھپانے میں ہوتی ہے۔ابتداء سے یہی میرا اصل رہا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ مجھے اس اصل پر قائم رکھے کہ ہم سچائی کے پیچھے چلیں اس کے پیچھے نہ جائیں کہ لوگوں پر ہماری باتوں کا کیا اثر ہوتا ہے لوگوں پر جو بھی اثر ہو ہو۔ہمیں نہیں چاہئے کہ ہم سچائی کو کسی طرح چھپا دیں۔میں جانتا ہوں کہ آجکل لوگوں میں عادات کی خرابی کی وجہ سے یہ نقص ہے کہ اگر کسی ایسے شخص کی کوئی نیکی بیان کی جائے جس سے انسان کو شکوہ ہو تو وہ سن کر کہہ دیتے ہیں پھر کیا ہوا۔ہر شخص میں کوئی تھی اچھی بات بھی ہوتی ہے اور کوئی بُری بھی۔پس اس قدر شکوہ کیوں کرتے ہو۔اس قسم کے لوگوں کے سامنے یقیناً ہمارے دلائل کمزور ہو جائیں گے اور وہ جھٹ کہنے لگیں گے کہ جب تمہارے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے بعض حکام نے ظلم اور انصاف دونوں طرح سے کام لیا ہے تو ظلم کو بھول جاؤ اور انصاف کو یا د رکھو آخر غلطیاں بھی تو انسان سے ہی ہوتی ہیں۔سچائی کی اتباع میں یہ وقت ہمیں ضرور پیش آئے گی مگر یہ کمزوری سچائی کو چھوڑ دینے سے کم خطر ناک ہے۔اگر لوگوں میں یہ عادت