خطبات محمود (جلد 17) — Page 606
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ مثل مشہور ہے کہ کوئی بیوقوف نواب تھا اس نے ایک دفعہ مجلس میں بے حجابانہ بلند آواز میں ہوا خارج کر دی۔اُس کے ارد گرد جو خوشامدی بیٹھے تھے کہنے لگے سُبحَانَ اللهِ کیا سنتِ رسول پر عمل کیا ہے۔رسول کریم ﷺ کا یہی حکم ہے کہ ہوا خارج ہونے لگے تو اسے نہ روکو۔ایک اور بھلا مانس بھی اس مجلس میں بیٹھا تھا اسے یہ بات بہت بُری معلوم ہوئی کہ رسول کریم ﷺ کا نام اس طرح نامناسب طور پر استعمال کیا گیا ہے اُس نے چاہا کہ اُن کو شرمندہ کرے لیکن چونکہ وہ اسی مجلس میں بیٹھنے والا تھا اُس کے اخلاق بھی زیادہ اچھے نہ تھے اس لئے اس نے بجائے شریفانہ رنگ میں سمجھانے کے دوسرے دن آپ وہی حرکت کر دی۔اس پر سب اُسے کہنے لگے کیسا گدھا ہے، کیسا بیوقوف اور احمق ہے، آداب مجلس کا ذرا بھی خیال نہیں۔وہ کہنے لگا جناب ! میں نے تو وہی حرکت کی ہے جو کل اس قدر قابل تعریف کبھی گئی تھی۔پس اگر گورنمنٹ الگ الگ آدمیوں سے الگ سلوک کرے گی تو لوگوں کی ملامت کا نشانہ بنے گی۔آخر لوگوں کے دل میں سوال پیدا ہو کر رہے گا کہ جب قانون کا اصل ایک ہے تو کیا وجہ لکھنؤ والوں کیلئے وہ اور رنگ میں ظاہر ہو اور قادیان والوں کیلئے اور رنگ میں ؟ آخر لوگ سوچیں گے کہ اس کی یہی وجہ تو نہیں کہ لکھنؤ والے امیر ہیں اور قادیان کے لوگ غریب۔اگر یہ بھی امیر ہوتے ، اگر ان کی تعداد بھی زیادہ ہوتی اور اس قسم کا واقعہ ہوتا تو گورنمنٹ ان کی یہ باتیں سن کر فوراً کہتی بالکل درست لکھنو میں بھی ہم نے ایسا ہی کیا ہے اور یہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے لیکن چونکہ امارت اور غربت کا فرق ہے یہ تھوڑے ہیں اور وہ زیادہ پھر یہ قانون کے پابند ہیں اس لئے ان کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔میں تو بعض دفعہ سوچا کرتا ہوں کہ شاید ہمارا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ ہم قانون کی پابندی کا فیصلہ کر چکے ہیں اور اس وجہ سے حکومت خیال کرتی ہے کہ ان کی تکلیف کی طرف توجہ نہ کی گئی تو امن میں خلل نہ آئے گا لیکن اگر میرا یہ خیال درست ہو تو حکومت کو اپنی اصلاح کرنی چاہئے کیونکہ ایسے حالات ملک کے امن و امان کو برباد کر دیتے ہیں اور لوگوں کی محبت حکومت سے کم کر دیتے ہیں۔میں نے کسی کتاب میں پڑھا ہے کہ ایک جاپانی لیڈر نے ایک دفعہ ایک مضمون لکھا اس میں وہ بیان کرتا ہے ( جس طرح ہندوستان پر یورپین قوموں نے حکومت حاصل کر لی ہے اسی طرح شروع شروع میں انہوں نے جاپان پر بھی حکومت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے