خطبات محمود (جلد 17) — Page 595
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۸۶ سال ۱۹۳۶ء کے دل کس قدر خوشیوں سے بھر جاتے ہوں گے اور وہ کس کس رنگ میں مزے نہ لیتے ہوں گے کہ ہماری چھوٹی چھوٹی قربانیاں دنیا میں کتنا عظیم الشان تغیر پیدا کر گئیں اور ہمارا بویا ہوا چھوٹا سا بیج کیسا عظیم الشان درخت بن گیا یہی حال آئندہ ہونے والا ہے ۔ ہمارے زمانہ میں یہ باتیں آئیں یا نہ آئیں مگر یہ آکر رہیں گی اور اگر اس دنیا میں ہم نے ان امور کو پورا ہوتے نہ دیکھا تو ہم آسمان پر سے دنیا کو جھانکیں گے اور دنیا کے تغیرات کو دیکھ کر کہیں گے کہ خدا نے سب کچھ ہمارے ہاتھوں صلى الله سے کرایا۔ اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے تجھ سے جو وعدے کئے ہیں ان وعدوں میں سے بعض تیری زندگی میں پورے کر دیں گے اور بعض تیری وفات کے بعد پورے کریں گے ۔ ۔ یہی حال مؤمن کا ہوتا ہے وہ کچھ امور کو پورا ہوتے اپنی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے اور کچھ امور کے پورا ہونے کو آسمان پر سے جھانک کر دیکھتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے دیکھنے سے آسمان پر سے در دیکھنا کچھ کم حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دنیا میں انسان جب ان امور کود۔ امور کو دیکھتا ہے تو اُس کے ساتھ بہت سے خطرات بھی لگے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ آئندہ کے حال سے بھی ناواقف ہوتا ہے لیکن آسمان پر بیٹھی ہوئی روح مستقبل سے بھی واقف کی جاتی ہے اور وہ جانتی ہے اُس وسعت کو جو اُس کا لگایا ہوا درخت دنیا میں حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ پس اپنی ذات کا معاملہ خدا سے درست کر لو دنیا کا معاملہ خدا تعالیٰ خود درست کر دے گا کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے مؤمن کی قربانی کبھی ضائع نہیں ہوتی ، ضائع نہیں ہو سکتی اور ضائع نہیں کی جاتی" (الفضل ۱۹ استمبر ۱۹۳۶ء) ام المائدة : ۲۵ بخاری کتاب الجهاد والسير باب يقاتل مِنْ وَرَاءِ الإِمَامِ وَ يُتَّقَى بِهِ صفحه ۴۸۹ حدیث نمبر ۲۹۵۷ مطبوعہ دارالسلام رياض ۱۹۹۹ء الطبعة الثانية سے بخاری کتاب الاذان باب اِثْم مَنْ رَفَعَ رَأسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ صفی ۱۱۳ حدیث نمبر ۶۹۱ مطبوعہ دارالسلام رياض ۱۹۹۹ء الطبعة الثانية ابو داؤد كتاب الزكوة باب الرخصة في ذلک صفحه ۲۴۸، ۲۴۹ حدیث نمبر ۱۶۷۸ مطبوعہ دارالسلام ریاض ۱۹۹۹ء الطبعة الاولى هم المائدة : ١٠٦ وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (يونس: ۴۷)