خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 594

خطبات محمود ۵۹۴ سال ۱۹۳۶ بھی۔پس ایک تو دوستوں کی تشویش کو دور کرنے کیلئے اور دوسرے اظہارِ حقیقت کیلئے میں چاہتا ہوں کہ اس امر کے متعلق بعض باتیں بیان کروں۔جس قد ر واقعہ اُس دن ہوا ہے وہ اسی قدر ہے کہ جبکہ ہم سٹیشن پر سے واپس آرہے تھے تو اُس گلی میں جو شیخ یعقوب علی صاحب کی گلی کہلاتی ہے ان کے گھر کے قریب جب موٹر گزر رہا تھا تو اُس کی چھت پر قریباً اُسی جگہ جہاں میں بیٹھا تھا مگر ذرا بائیں طرف بائیں کندھے کے اوپر کے قریب کوئی چیز زور سے گری۔اُس کے اندر اچھی زور کی طاقت تھی کیونکہ موٹر کی چھت پر کپڑا ہوتا ہے اور اُس کے اور لکڑی کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے مگر وہ چیز اس زور سے گری کہ کپڑے سمیت چھت سے آلگی اور چھت کا نپی اور یوں معلوم ہوا کہ اس میں سے کچھ ذرے بھی گرے ہیں حالانکہ اس کے نیچے بھی کپڑا ہوتا ہے۔اس کے گرنے پر میں نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ موٹر ٹھہرائے تا دیکھا جائے کہ کیا بات ہے مگر چونکہ موٹر کی رفتار تیز ہوتی ہے اور موٹر چلانے والا ارادہ کے باوجود اُسے یکدم نہیں روک سکتا اس لئے اُسے موٹر کے روکنے میں کچھ دیر گی۔تب میں نے دوبارہ اُسے کہا کہ موٹر کو جلدی کھڑا کرو چنانچہ اُس نے موٹر کو کھڑا کیا مگر وہ انداز دس پندرہ گز کے فاصلہ پر جا کر کھڑی ہوئی اور جس جگہ وہ ٹھہری وہاں میاں فیروز الدین صاحب پٹواری کا مکان ہے۔وہ باہر رہتے ہیں مگر ان کا گھر یہیں ہے لیکن وقوعہ اس مکان سے دس یا پندرہ یا بیس گز پرے کا ہونا چاہئے یا اس سے کم و بیش فاصلہ۔کیونکہ چلتی ہوئی موٹر کے فاصلہ کا اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن بہر حال یہ فاصلہ پانچ دس گز سے پندرہ میں گز تک ہوسکتا ہے۔موٹر کے ٹھہر جانے پر میں نے اُس کے پائیدان پر کھڑے ہو کر چھت کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ جو چیز رگری تھی اُس کا اُس حصہ چھت پر کوئی نشان نہ تھا جس کے متعلق مجھے خیال تھا کہ اس پر کوئی چیز پھینکی گئی ہے۔البتہ اس کے اگلے حصہ پر جو بالکل قریب کے زمانہ میں مرمت کرایا گیا تھا تین چار یا پانچ میں صحیح نہیں کہہ سکتا مگر متعدد جگہ سے کپڑا پھٹا ہوا تھا مگر ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ عزیزم ناصر احمد دو تین ہفتہ پہلے جب اپنی پھوپھی سے ملنے کیلئے ڈلہوزی گئے تھے تو وہاں سے واپسی پر پہاڑ سے کچھ پتھر گرے تھے یہ کپڑا اُن پتھروں سے پھٹا تھا اور یہ نشان انہی پتھروں کے ہیں۔پس یہ نشانات پھینکی ہوئی چیز کی طرف منسوب نہیں کئے جاسکتے تھے۔بعد میں میں نے بعض دوستوں سے کہا تھا کہ وہ دیکھ لیں کہ آیا یہ