خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 592

خطبات محمود ۵۹۲ سال ۱۹۳۶ تھیں اور موت ان کیلئے شہد تھا۔لوگ موت سے بھاگتے پھرتے ہیں مگر صحابہ موت کے اوپر خود گرتے تھے اور خدا اُن کو پھر زندہ کر دیتا تھا۔پس مؤمن کو امرالہی کے حصول کیلئے ہر وقت اور ہر قربانی کیلئے تیار رہنا چاہئے مگر قومی قربانی نظام کے ماتحت ہونی چاہئے۔اگر چہ انفرادی قربانی انسان ہر وقت پیش کر سکتا ہے۔پس میں جماعت کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ اس کا تو کل انسانوں پر نہیں بلکہ خدا پر ہونا چاہئے اور ترقی کی بنیا دا سے امر الہی پر رکھنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَمُ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللهِ جب اللہ تعالیٰ کا امر حاصل ہو جائے جو قر بانیوں سے ہی حاصل ہوتا ہے تو پھر ترقی کے رستہ میں کمی تعدا د روک نہیں بن سکتی اس لئے میں نے تحریک جدید میں ہر قسم کی قربانیاں رکھی ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ کئی لوگ کھانے پینے اور لباس کے معاملہ میں اس کی پوری پابندی نہیں کرتے۔زیورات بنوانے کے معاملہ میں بعض عورتیں اس پر عمل کرنے میں کوتا ہی کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے جماعت ابھی تک ان قربانیوں کو پیش نہیں کر سکی جن کی ضرورت ہے کیونکہ جب انسان کے پاس ہے ہی کچھ نہیں تو وہ قربانی کیا کرے گا۔اگر تمہارے جسم کے اندر روح موجود ہے تو تم جان کی قربانی پیش کر سکتے ہو مگر جب روح ہی نہیں تو جان کی قربانی کے کیا معنی؟ اسی طرح جو شخص اقتصاد کی مدد سے کچھ رقم پس انداز نہیں کرتا وہ مالی قربانی کس طرح کر سکے گا اور جو شخص جلد جلد کام کرنے کا عادی نہیں وہ وقت کی قربانی کس طرح کر سکتا ہے۔وقت کی قربانی وہی کر سکتا ہے جو جلد کام کرنے کا عادی ہو، جان کی قربانی وہی کر سکتا ہے جس کے پاس جان ہو اور مالی قربانی وہی کر سکتا ہے جس نے محنت سے کام کیا ہو اور پھر اقتصاد سے کچھ بچایا بھی ہو۔پس جب تک تحریک جدید کے سارے حصوں پر عمل نہیں ہوتا اور ہر ایک مطالبہ کو مد نظر نہیں رکھا جاتا اُس وقت تک ہم ترقی کے میدان میں نہیں اُتر سکتے۔یاد رکھو کہ منہ کی قربانی کسی کام کی نہیں۔قربانی وہی ہے جو حقیقی معنوں میں ہو۔منہ کی قربانی کی تو وہی مثال ہے کہ سو گز واروں ایک گز نہ پھاڑوں اور اِس سے اسلام کو یا دین کو قطعاً کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔( الفضل ۲۶ ستمبر ۱۹۳۶ء) ل البقرة: ۲۵۰ البقرة: ۲۵۶