خطبات محمود (جلد 17) — Page 565
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۵۶ سال ۱۹۳۶ء علیہ السلام کو دیکھو کہ ایسے شدید دشمن کے صحیح واقعات سے بھی اس کی تذلیل گوارا نہیں کرتے مگر ہمارے دوست جوش میں آکر گالیاں دینے بلکہ مارنے پیٹنے لگ جاتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ صلى الله رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے پس ہماری جماعت کو ایک طرف تو یہ اعلیٰ اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں اور دوسری طرف بدی سے پوری پوری نفرت پیدا کرنی چاہئے ایسی ہی نفرت جیسی حضرت رسول کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دکھائی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی یہ دونوں نظارے پائے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن ایک سمویا ہوا انسان ہوتا ہے۔ میں اس موقع پر غیرت کی ایک مثال بھی بیان کر دیتا ہوں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر تھے کہ پنڈت لیکھرام بھی وہاں آگئے اور آپ کو سلام کیا۔ اُس وقت اُن کی شہرت ریہ لوگوں میں آنحضرت ﷺ کو گالیاں دینے کی وجہ سے خوب ہو چکی تھی اور وہ آریوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے سلام کا کوئی جواب نہ دیا تو حضور کے ساتھ جو خدام تھے انہوں نے سمجھا کہ شاید آپ نے دیکھا نہیں اس لئے عرض کیا کہ حضور پنڈت لیکھر ام سلام کرتے ہیں مگر آپ خاموش رہے۔ پنڈت لیکھرام نے بھی اس خیال سے کہ آریہ صلى الله علي انہوں نے مجھے دیکھا نہیں دوسری طرف ہو کر پھر سلام کیا۔ پھر بھی آپ نے جواب نہ دیا۔ اس پر آپ کے ہمراہی جو شاید فخر محسوس کر رہے تھے کہ آریوں کا لیڈر آپ کو سلام کر رہا ہے پھر انہوں نے سے آپ کو توجہ دلائی کہ حضور پنڈت لیکھر ام جی آپ کو سلام کر رہے ہیں۔ اس پر آپ نے جوش فرمایا کہ کیا انہیں شرم نہیں آتی کہ آقا کو تو گالیاں دیتے ہیں اور غلام کو سلام کہتے ہیں ۔ غرض آپ کے اندر ایک طرف تو بے انتہاء غیرت تھی اور دوسری طرف بے انتہاء رحم اور عفو تھا۔ غیرت تھی تو اس قدر کہ ایک مشہور لیڈر کا سلام تک لینے کو آپ تیار نہ ہوئے اور رحم تھا تو اتنا کہ ایک شدید مخالف کی ذلت بھی پسند نہیں کرتے ۔ پس یہ اخلاق ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم کو سکھائے اور جنہیں زندہ رکھنے کی کوشش ہماری جماعت کو کرنی چاہئے ۔ یا درکھو کہ جو شخص اپنی اولاد کو نیک اخلاق نہیں سکھاتا وہ نہ صرف یہ کہ اپنی اولاد سے دشمنی