خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 559

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۵۰ سال ۱۹۳۶ء على الله اخلاق فاضلہ، رسول کریم ﷺ کی محبت اور عشق دلوں میں قائم کریں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی کی شریعت کا اجراء کریں اور ہمیں اس امر کا خیال رکھنا چاہیئے کہ ہم نے ان چیزوں کی اسی طرح کا حفاظت کرنی ہے جس طرح صحابہ نے کی تھی ہم میں اور دوسری قوموں میں ایسا امتیاز ہونا چاہئے کہ پتہ لگ سکے کہ ہم نے اس امانت کو قائم رکھا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک جماعت ایسی موجود تھی مگر سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ نسلوں میں بھی یہی جذبہ موجود ہے؟ کیا کوئی عقلمند یہ پسند کر سکتا ہے کہ ایک اچھی چیز اسے تو ملے مگر اس کی اولا د اس سے محروم رہے؟ پھر تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی قدر و قیمت جانتا ہے وہ پسند کرے گا کہ وہ اس کے ورثاء کو نہ ملے لیکن اس کی زمین اور اس کے مکانات انہیں مل جائیں ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَ لَهُو الے دُنیوی زندگی لہو و لعب کی طرح ہے یہ سب کھیل تماشہ کی چیزیں ہیں یہ ایسی ہی ہیں جس طرح فٹ بال کرکٹ یا ہا کی ہوتی ہے۔ پھر کیا کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ حکومت اس کی زمین ، مکان اور جائداد تو ضبط کر لے مگر گلی ڈنڈا اُس کے بیٹے کو دے دے یا کوئی پھٹا پرانا فٹ بال یا ٹوٹا ہوا ٹینس ریکٹ یا ہاکی کی سٹک اُس کے بیٹوں کو دے دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیوی چیزیں لہو ولعب ہیں اور دین و دنیا میں وہی نسبت ہے جو ایک حقیقی چیز کو کھیل تماشہ سے ہوتی ہے اور کوئی شخص یہ کب پسند کر سکتا ہے کہ قیمتی ورثہ تو اُس کی اولا د کو نہ ملے اور اور شخصیہ پسند کرسکتا ہے کہ تو کو نہ۔ لہو و لعب کی چیزیں مل جائیں ۔ لیکن کیا ہم میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو عملاً ایسا کرتے ہیں ۔ جب ان ۔ جو ۔ کا بیٹا جھوٹ بولے، چوری کرے یا کوئی اور جرم کرے تو وہ اس کی تائید کرتے ہیں ۔ میں متواتر دیکھ رہا ہوں کہ بعض لڑکے قادیان میں ایسی شرارتیں کرتے ہیں کہ احمدیت تو الگ رہی وہ انسانیت کے بھی خلاف ہوتی ہیں مگر ان کے ماں باپ چوری چھپے ان کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اوّل تو کی وہ اس وجہ سے مجرم ہیں کہ انہوں نے اولا دکو دینی تعلیم سے محروم رکھا اگر ان کے نزدیک نیکی کی کوئی قیمت ہوتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ اس سے اپنی اولادوں کو محروم رکھتے اور اگر اس میں کوتاہی کی تھی تو پھر مجرم کی اعانت سے ہی باز رہتے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ نیکی اور تقویٰ میں ضرور تعاون کرو مگر بدی اور