خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 550

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۴۱ ۳۱ سال ۱۹۳۶ء احمدی اس نعمت کی قدر کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے سپرد کی ہے دوست اپنی اولا پنی اولاد کی اور دوسرے نوجوانوں کی اصلاح کریں (فرموده ۲۱ راگست ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسان کی پیدائش جس اعلیٰ مقصد کیلئے ہوئی ہے اُس کو مد نظر رکھتے ہوئے دنیا میں بہت سے فلاسفر اور بہت سے تعلیم یافتہ انسان یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا انسان کی پیدائش کے مقصد میں کامیابی ہوئی ہے اور بنی نوع انسان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے وہ کام لے لیا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے اس نے انسان کو پیدا کیا تھا ؟ وہ مقصد جسے خدا تعالیٰ نے انسانی پیدائش میں مد نظر رکھا ہے یہ ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ یعنی میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف عبادت کیلئے یا اپنا عبد بنانے کیلئے پیدا کیا ہے۔ وہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعہ میں انسان اس مقصد کو پورا کر رہا ہے اور کیا واقعہ میں اس نے اس قسم کی ترقی کی ہے کہ خدا کا عبد کہلانے کا مستحق ہو؟ اور پھر ان کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔ اور اس لئے وہ سوال کرتے ہیں کہ اگر انسان کا کوئی پیدا کرنے والا ہے تو کیوں اسے اس مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی ؟ اس کے متعلق یا د رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء اس سوال کا جواب دینے کیلئے آتے ہیں اور دنیا میں نیکی کی ایسی رو چلاتے ہیں