خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 527

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۱۸ سال ۱۹۳۶ء زیادہ تھے۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یکسالہ مومن تھکنے لگ گئے ہیں اور اگلے سال کی تحریک میں جو دو سالہ مؤمن ہوں گے وہ تھک کر الگ ہو جائیں گے اور پھر پہلی تحریک جدید کے بعد جب دوسرا قدم اٹھایا جائے گا تو وہ جو سہ سالہ مؤمن ہوں گے وہ گرنے لگ جائیں گے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے دین کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں آجائے گا جو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرطیں باندھنے کے عادی نہیں ہوتے تب اُس وقت فرشتے نازل ہوں گے اور آدمی نہیں بلکہ فرشتے لڑائی کر کے دنیا کو دین کیلئے فتح کریں گے ۔ ہاں جیسا کہ قرآن مجید میں منافقوں کا حال لکھا ہے جب دنیا فتح ہو جائے گی اور اسلام کی حکومت عالم پر قائم ہو جائیگی اُس وقت یکسالہ مؤمن اور دو سالہ مؤمن اور سہ سالہ مؤمن سب جمع ہو کر آجائیں گے اور کہیں گے ہم بھی مؤمن ہیں ہمیں بھی فتوحات میں شامل کیا جائے مگر خواہ وہ دنیا کی چیزیں لے لیں خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو سکتا ۔ دنیا کی بادشاہت محمد ﷺ اور آپ کے نائبین سے چھین کر یزید نے لے لی مگر کیا خدا تعالیٰ کے حضور بھی یزید کو کوئی بادشاہت ملی؟ یزید کا نام اس دنیا میں بھی جہنم کے دروازہ پر لکھا ہوا ہے کجا یہ کہ آخرت میں اسے کوئی انعام حاصل ہو۔ پس دنیا کا حصہ گو ایسے لوگوں کو مل جائے مگر آخرت میں انہیں کوئی حصہ نہیں مل سکتا کیونکہ آخرت میں انہی کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرطیں نہیں کرتے۔ صلى الله پس میں جماعت کو آج یہ توجہ دلانے کیلئے آیا ہوں کہ تحریک جدید کے ذریعہ ان کا امتحان ہو رہا ہے فیل ہونے والے فیل ہورہے ہیں اور کامیاب ہونے والے کامیاب ہورہے ہیں ۔ وہ جو امید کرتے ہیں کہ اب ان کیلئے کوئی آرام کا سانس ہے وہ غلطی پر ہیں اگر بندوں کے ہاتھ سے ان کا امتحان نہیں ہوگا تو خدا تعالیٰ خود ان کا امتحان لے گا لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ چاہتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مخلصوں اور کمزوروں اور منافقوں کو جدا جدا کر دیا جائے ۔ میں نے تحریک جدید میں جو امور پیش کئے تھے اگر جماعت ان پر عمل کرتی تو ہر سال پہلے سے زیادہ چندہ آتا اور زیادہ چندہ دینے کی طاقت ان میں پیدا ہوتی ۔ میں نے کہا تھا کہ اپنے اخراجات کو کم کرو اور اخراجات میں کمی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کر کے جو رقم تمہارے پاس بچے وہ اسلام کی ترقی کیلئے دو اور اخراجات میں کمی اپنی اپنی