خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 527

خطبات محمود ۵۲۷ سال ۱۹۳۶ ہیں۔انہوں نے اس شاگرد کو جواب دیا کہ ابھی کچھ دنوں پہلے تو نے کس برتے پر مجھے کہا تھا کہ آپ تو نبوت کے اہل ہیں حالانکہ میں نے تجھے صرف ایک سرد پانی کے تالاب میں گودنے کو کہا تو ہے اور تو اس حکم پر بھی پورا نہیں اُتر سکتا دوسری طرف نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی یہ حالت تھی کہ حضور نے اُن کو طرح طرح کے مصائب میں ڈالا لیکن انہوں نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اُن کو ہمیشہ اس بات کی خواہش رہتی تھی کہ ہم کو اس سے زیادہ مشکل کاموں کے کرنے کا دیا جائے۔آجکل کے مسلمانوں کی تو یہ حالت ہے کہ وہ تمام احکام میں ایسی راہیں تلاش کرتے ہیں جن سے وہ ان احکام سے کسی طرح بچ سکیں۔حتی کہ بعض مسلمانوں نے كِتَابُ الحِيَل “ جیسی کتب بھی لکھ دی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طریق سے ہم شریعت کے احکام سے نجات پاسکتے ہیں۔گویا یہ لوگ ان احکام سے بچنا اپنا فرض سمجھتے تھے اور ان احکام کو اپنے اوپر بطور چٹی کے خیال کرتے تھے لیکن اس کے برخلاف صحابہ کرام اعمالِ صالحہ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔چنانچہ ایک صحابی کا ذکر ہے کہ انہوں نے ساری رات جاگنا شروع کر دیا تھا تا کہ زیادہ ثواب اور رضائے الہی حاصل ہو لیکن حضرت نبی کریم ﷺ نے اس کو منع فرما دیا۔اسی طرح ایک صحابی نے ہر روز روزہ رکھنا شروع کر دیا لیکن حضور نے اُس کو بھی منع فرما دیا۔ایک صحابی نے ہر روز پورے قرآن مجید کی تلاوت کا التزام کیا تو حضور نے اُس کو بھی منع فرمایا۔بعض صحابہ نے وصال کے روزے شروع کر دیئے تو حضور نے ان سے فرمایا کہ یہ روزے صرف میری ذات کیلئے ہیں تم یہ روزے نہ رکھا کرو۔ایک دفعہ حضور نے ایک مہاجر اور ایک انصاری کو بھائی بھائی بنایا۔ایک دفعہ مہاجر بھائی ، انصاری بھائی سے ملاقات کیلئے گئے کیا دیکھتے ہیں کہ اس انصاری بھائی کی بیوی میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے بیٹھی ہے۔انہوں نے اس سے دریافت کیا کہ تیری یہ حالت کیوں ہے؟ کہنے لگی میں کس کو دکھانے کیلئے صاف ستھری ہو کر بیٹھوں۔میرے خاوند کی تو یہ حالت ہے کہ ساری رات عبادت کرتا رہتا ہے اور دن روزہ کی حالت میں گزار دیتا ہے اور اُس کو اِس بات کی خبر نہیں کہ میں اُس کے گھر میں بطور بیوی کے رہتی ہوں۔اتنے میں انصاری بھائی بھی آگئے۔مہاجر بھائی نے ان