خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 520

خطبات محمود ۵۲۰ سال ۱۹۳۶ - کمی ہو تو ان کا موں کو جن کو شروع کیا جا چکا ہے بند کر دیا جائے۔میں پہلے بھی اشارۃ بیان کر چکا ہے ہوں کہ روپیہ کی کمی کی وجہ سے کام ہرگز بند نہیں کئے جاسکتے۔اگر روپیہ کی آمد میں کمی ہوئی تو تو کارکنوں کی تنخواہیں دس فیصدی کم کر دی جائیں گے اور اگر دس فیصدی کمی کر کے بھی گزارہ نہ ہوا تو ان کی تنخواہوں میں بیس فیصدی کمی کر دی جائے گی اور اگر ہمیں فیصدی کمی بھی ضروریات کو پورا نہ کرسکی تو تیس فیصدی کمی کر دی جائے گی اور اگر تمیں فیصدی کمی کافی ثابت نہ ہوئی تو چالیس بلکہ پچاس فیصدی کمی کر دی جائے گی۔صدرانجمن احمدیہ کے جو کا رکن پہلے سے کام کر رہے ہیں یا وہ کا رکن جنہوں نے اس تحریک جدید پر کام شروع کیا ہے میں آج سے ان سب کو ہوشیار کر دیتا ہوں کہ اگر انہیں اپنی تنخواہوں میں یہ کمی منظور نہ ہو تو وہ بے شک اپنی نوکریوں کا باہر ا نتظام کر لیں۔مجھے یقین ہے کہ پانچ یا دس دفعہ بھی اگر مجھے آدمی بدلنے پڑے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل۔آدمی بھیجتا چلا جائے گا اور وہ کام پورا ہو کر رہے گا جس کے کرنے کا ذمہ ہم نے اُٹھایا ہوا ہے اور جس کو تکمیل تک پہنچنا نے کا فرض ہم پر عائد کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا نام انبیاء علیہم السلام نے شیطان کی آخری لڑائی کا زمانہ رکھا ہے اس لڑائی کی آگ میں جب تک ہم اپنی ہر چیز جھونکتے نہ جائیں گے اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔شاہجہاں کی نسبت آتا ہے کہ اُس کی بیوی نے مرنے سے پہلے خواب میں دیکھا کہ میں مرگئی ہوں اور میری قبر پر بادشاہ نے ایسا ایسا مقبرہ بنایا ہے یہ وہی مقبرہ ہے جسے آجکل تاج محل کہتے ہیں اور آگرہ میں ہے۔اس نے بادشاہ کے پاس ذکر کیا وہ چونکہ بیمار تھی اور بادشاہ کو اس کی دلجوئی مد نظر تھی اس لئے اُس نے بڑے بڑے انجینئر بلائے اور کہا کیا اس قسم کی عمارت بنا سکتے ہو؟ سب نے کہا یہ تو کسی جنت کی عمارت کا نقشہ ہے ہم اسے تیار نہیں کر سکتے آخر ایک انجینئر آیا اور اس نے کہا بادشاہ سلامت ! ایسی عمارت بن سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر جمنا کے دوسرے کنارے چلیں اور ہزار ہزار روپیہ کی دوسو تھیلیاں اپنے پاس رکھوالیں۔تجویز میں بتادوں گا اور وہ جگہ بھی بتادوں گا جہاں اس قسم کا مقبرہ بن سکتا ہے۔بادشاہ نے حکم دیا جس پر فوراً ہزار ہزار و پیر کی دو سو تھیلیاں خزانہ سے آگئیں۔اس نے ان تھیلیوں کو کشتی میں رکھا اور انجینئر کے ساتھ سوار ہوکر جمنا کے دوسرے کنارے جانے کیلئے روانہ