خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 519

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۱۰ سال ۱۹۳۶ء میں تفرقہ اور شقاق ہے تم کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ تم اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ اپنے اندر پیدا کرو جیت جاؤ گے چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ ملک کی حالت دیکھ کر دردمند لوگ اس کے ارد گرد جمع ہونے شروع ہو گئے اور انہوں نے اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین نمونہ دکھا یا ایسا نمونہ کہ خود اس نے نپولین کی زندگی میں بھی تغیر پیدا کر دیا۔ نپولین ایک دفعہ ایک بڑی جنگ کے بعد فرانس کے پاس اٹلی کے نیچے ایک جزیرہ میں قید کر دیا گیا۔ کچھ لوگوں کی مدد سے آخر وہ آزاد ہوا اور فرانس کے ساحل پر اترا۔ اُس وقت نئی حکومت قائم ہو چکی تھی اور نیا نظام تھا۔ بادشاہ نے پادریوں کو بلایا اور ان کے ذریعہ جرنیلوں سے بائبل پر ہاتھ رکھ رکھ کر قسمیں لیں اور جرنیلوں کے ذریعہ تمام سپاہیوں سے قسمیں لیں کہ وہ پوری طرح حکام کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے ۔ بادشاہ نے یہ قسمیں اس لئے لیں کہ وہ جانتا تھا کہ نپولین نے لوگوں کے دلوں میں ایسی روح پیدا کر دی ہے کہ جب بھی نپولین ان کے سامنے آئے گا وہ نئی حکومت سے اپنے سارے تعلقات بھول جائیں گے اور اسی کے گرد جمع ہو جائیں گے۔ اس طرح قسمیں لینے کے بعد جنرل نے (NAY) کو رئیس لشکر بنایا گیا اور وہ ہیں ہزار سپاہی لے کر نپولین کے مقابلہ کو روانہ ہوا ۔ نپولین کے ساتھ صرف چند سو آدمی تھی اور وہ بھی اکثر زمیندار تھے جو لڑائی کے فن سے چنداں واقف نہ تھے اور ان کے پاس ہتھیاروں کی اتنی کمی تھی کہ بعض کے پاس صرف درانتیاں تھیں ۔ اتفاقاً نپولین کے دستہ اور شاہی فوج کی مڈ بھیڑ ایک ایسے مقام پر ہوئی جہاں وڑہ بہت چھوٹا تھا اور صرف چند آدمی کندھے سے کندھا ملا کر گزر سکتے تھے۔ نپولین نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ آگے بڑھو وہ آگے بڑھے تو شاہی فوج نے ان پر گولیاں چلائیں اور وہ مارے گئے ۔ پھر اُس نے بعض آدمی بھیجے تو وہ بھی مارے گئے ۔ آخر سپاہیوں نے اُسے کہا کہ آگے بڑھنے کی کوئی صورت نہیں ۔ دشمن سامنے کھڑا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ہم بائبل پر ہاتھ رکھ کر اور قسمیں کھا کر آئے ہیں کہ نپولین کے سپاہیوں کو مار ڈالیں گے اور چونکہ دو چار سپاہیوں کے سوا ہم میں سے زیادہ بڑھ نہیں سکتے کیونکہ درہ چھوٹا ہے اس لئے وہ گولیوں سے ہلاک کر دیتے ہیں اور ہم مقابلہ بھی نہیں کر سکتے ۔ میں اس بات کی مثال دے رہا تھا کہ نپولین نے ان لوگوں میں سے کس طرح اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ پیدا کر دیا تھا۔ چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب سپاہیوں نے کہا کہ شاہی فوج کے آدمی ہم پر گولی چلا کر ہمیں ہلاک