خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 509

خطبات محمود ۵۰۹ سال ۱۹۳۶ گلیوں میں مسلمان عورتوں کی لاشیں گنتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کو محمد اللہ نے روانہ کرنے کیلئے تیار کیا تھا۔اس کے بعد فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ ابن ابو قحافہ کا اپنی خلافت میں پہلا کام یہ ہو کہ وہ محمد عے کے کسی حکم کو منسوخ کر دے۔بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ اس سے بہادری کا وہ جذ بہ ظاہر ہوتا ہے جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اندر تھا لیکن در حقیقت اسی میں ان کی کامیابی کا راز تھا۔وہ قوت ارادی جس سے دنیا فتحی ہو سکتی ہے اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے جب کامل اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ انسان کے اندر ہو، جب وہ حیلے حجتیں نہ کریں، جب وہ اپنی تجویزوں اور اپنے قیاسات سے کام لینے کی بجائے اس حکم کو سنے جو اُسے دیا گیا ہو اور اُس پر پوری طرح عمل کرے۔اگر انسان اس بات کی عادت ڈال لے تو اس صورت میں اسے بہت جلد کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔پس ایک طرف میں دوستوں سے معذرت کرتا ہوں اور دوسری طرف انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی کارروائیاں تمہیں قطعاً کامیابی عطا نہیں کر سکتیں۔جب تک تمہارے اندر ایسی فرما نبراری پیدا نہ ہو کہ اگر تمہیں کہا جائے تلوار کی دھار پر اپنی گردنیں رکھ دو تو ایک بھی تم میں سے پیچھے نہ ہٹے اس وقت تک تمہیں اطاعت کا مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔مؤمن کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ابتدائی تحقیق کر کے دیکھ لیتا ہے کہ مدعی خدا کا رسول ہے یا نہیں۔یا نبی کی جانشینی اور قائمقامی کا دعوی کرنے والا صحیح معنوں میں اس کا قائمقام اور جانشین ہے یا نہیں۔لیکن جب وہ اسے مان لیتا ہے تو پھر وہ دوسری آواز نہیں نکالتا۔اس کی اپنی آواز میں بند ہو جاتی ہیں اور اس کیلئے صرف ایک ہی راستہ کھلا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وہ اُس کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتا چلا جائے خواہ کی اسے آگ میں کودنا پڑے یا سمندر میں چھلانگ لگانی پڑے۔اسلام تو اسلام جب یہ بات کافروں میں پیدا ہو جاتی ہے تو ہ بھی دنیا کو فتح کر لیتے ہیں۔نپولین ایک معمولی ماں باپ کا بیٹا تھا لیکن وہ ایسے وقت میں فرانس میں پیدا ہوا جب فرانس کی حالت بہت گر رہی تھی۔فرانس اس سے پہلے بہت بڑی طاقت رکھتا تھا اور سارے یورپ پر اس کا رُعب اور دبدبہ تھا لیکن نپولین کے زمانہ میں فرانس اپنے عروج کی حالت سے گر رہا تھا۔نپولین نے اسے سنبھالنا چاہا اور اس نے لوگوں سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ جب تک تم