خطبات محمود (جلد 17) — Page 503
خطبات محمود ۵۰۳ سال ۱۹۳۶ جاؤں گا کیونکہ میں ان پتھروں کے کھانے میں حقیقی خوشی اور لذت محسوس کرتا تھا۔اور اس موقع پر کی ہماری جماعت کے پچھیں آدمی زخمی ہوئے جن میں بعد میں ایک آدمی فوت بھی ہو گیا۔ہم کو یہ تو نہیں چاہئے کہ ایسے مواقع ہم اللہ تعالیٰ سے طلب کریں لیکن اگر خود بخو دا ایسے مواقع پیش آجائیں تو گھبرانے کی بجائے خوش ہونا چاہئے۔جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے تکلیف اُٹھانا نعمت سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرماتا ہے۔ماں کو دیکھ لو جب وہ بچے کو کہتی ہے کہ تجھے پھینک دوں اگر بچہ آگے سے خاموش ہورہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مجھے یہ امر منظور ہے تو ماں اُس بچے کو گرانے کی بجائے چھاتی سے لگا لیتی اور پیار کرتی ہے۔پس ہم کو چاہئے کہ عزت اور ذلت کا معیار وہی رکھیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے نہ کہ اپنی طرف سے ایک چیز کو عزت اور دوسری کو ذلت سمجھ لیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جو شخص لوگوں کی ظاہر بین نظروں میں ذلیل ہو وہی شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ہو۔ل الفاتحة: ٦، ( الفضل ۹ / اگست ۱۹۳۶ ء ) النساء: ٧٠ ابوداؤد کتاب الخراج فى بيان مواضع قسم الخمس (الخ) اسد الغابة جلد ۳ صفحه ۱۰۹ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ بخاری کتاب الاحكام باب قول الله تعالى أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ (الخ) تاريخ الخلفاء للسيوطى صفحه ۵۱ مطبوعہ لا ہور۱۸۹۲ء تاریخ ابن اثیر جلد ۲ صفحه ۴۲۶،۴۲۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء البقرة : ۴ الفاتحة: 6 الفاتحة: ۵ ۱۲ یونس : ۱۷ مسلم كتاب البر والصلة باب فضل عيادة المريض کنز العمال جلد ۳ صفحه ۲۴۳۔مطبوعہ حلب ۱۹۷۰ء ها فَاجْعَلْ لِي صَرْحًا لَّعَلَّى اَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى (القصص: ۳۹)