خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 500

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ کے مطابق ہے۔ ۴۹۱ صلى الله صلى الله سال ۱۹۳۶ء ہمارے لئے میں اس وقت اس بحث میں نہیں جاؤں گا کہ نبوت ، صدیقیت ، شہادت، صالحیت کی تشریحات کیا ہیں؟ ہم نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ ہم کس حد تک عزت کے طالب ہو سکتے ہیں؟ اس وقت میں یہ حصہ لیتا ہوں کہ انبیاء کو جو انعامات ملے وہ دنیوی لحاظ سے ان کو کیا پوزیشن دیتے ہیں اور صدیقین کو جو انعامات ملے وہ اُن کو دنیاوی لحاظ سے کیا پوزیشن دیتے ہیں اور شہداء اور صالحین کو جو انعامات ملے وہ دنیاوی لحاظ سے ان کو کیا پوزیشن دیتے ہیں ۔ پہلے انبیاء کولو اور دیکھو کہ نبوت کا انعام کس حد تک اُن کو دُنیوی مراتب عطا کرتا ہے۔ اس حد تک ہمارے لئے بھی جائز ہوگا کہ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم کو یہ یہ م مراتب بخشے ۔ نبی کریم کریم ﷺ او اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھو جس حد تک ان کے دنیا سے تعلقات ۔ تھے اُس حد تک جاہ کی طلب ہمار جائز ہے اور جس جگہ پر جا کر وہ کھڑے ہو جاتے ہیں اس سے آگے بڑھنا ہمارے لئے جائز نہ ہوگا ۔ ان انبیاء میں سے بعض بادشاہ بھی تھے۔ مثلاً حضرت نبی کریم ا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام وغیرہ ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام - حضرت آدم علیہ السلام کو بھی ایک حد تک تنفیذ امر کا مقام حاصل تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایسی حکومت حاصل نہ سہی لیکن کم از کم اپنے قبیلہ میں وہ ضرور حکومت کرتے تھے۔ غرض بادشاہت کا ثبوت بعض انبیاء میں ضرور ملتا ہے اور یہ بات تاریخ سے بھی ثابت ہے اس کے حصول اور قیام کیلئے کس حد تک انہوں نے دین کو تابع کیا ہے اس کی مثال ہمارے سامنے آنحضرت ﷺ کے وجود مبارک میں موجود ہے۔ حضور آخری عمر میں ایک بادشاہ تھے اس میں کسی کو شک نہیں ہو سکتا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس بادشاہت سے حضور نے دنیاوی فوائد کیا حاصل کئے ہیں ۔ مثلاً بیوی بچوں کی آسائش، دوستوں کی آسائش اور رشتہ داروں کی آسائش اس بادشاہت سے حضور نے کہاں تک حاصل کی ۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے اس بادشاہت سے دنیاوی فائدہ کوئی بھی حاص ائدہ کوئی بھی حاصل نہیں کیا بلکہ حضور نے اپنی تمام تر زندگی میں لوگوں کیلئے قربانی ہی پیش کی ۔ حضور نے ممالک مفتوحہ اور جائدادوں کو اپنا ہرگز قرار نہیں دیا۔ حضور کی وفات کے بعد سنی شیعہ کا جو اختلاف پیدا ہوا اس عظیم الشان اختلاف کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ حضور نے جائدادوں اور ممالک مفتوحہ کو اپنی صلى الله