خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 50

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء اندازہ نہیں کر سکتا لیکن جوں جوں قربانیوں کا وقت آئے گا وہ ظاہر ہوتے جائیں گے اور قربانیوں کی کے وقت ہی منافق بھی ظاہر ہوں گے۔جب قربانی کا وقت آتا ہے تو منافق کہتا ہے کہ ہم کہاں تک بوجھ اٹھا ئیں لیکن مؤمن خوش ہوتا ہے کہ کیا اچھا موقع اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔پس اس بات سے مت گھبراؤ کہ یہ کام کیونکر ہوگا وہ زمانہ بالکل قریب ہے جب خدا دشمن کو ایسی شکست دے گا کہ وہ سر نہیں اُٹھا سکے گا مگر اس کیلئے تمہیں انہی راستوں سے گزرنا ہو گا جن پر سے انبیاء کی جماعتیں گزری ہیں۔مؤمن اپنے اور اپنے عزیزوں کے خون سے گزر کر ہی خدا کے عرش پر پہنچتا ہے۔پس یہ یقین رکھو کہ یہ کام ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی غیر معمولی تو قف بھی نہیں۔صرف اُس وقت کا انتظار ہے کہ ہماری قربانیاں اس حد تک پہنچ جائیں جس تک پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نصرت آتی ہے۔جب وہ وقت آئے گا تمہارے جاہل کہلانے والے نو جوان دنیا کے علماء کے دلوں کو فتح کر کے انہیں اسلام کی غلامی میں داخل کر دیں گے اور دنیا میں اسلام ہی اسلام پھیل جائے گا۔اس موقع پر میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ الفضل، میں کچھ اشعار چھپتے رہے ہیں جن کی ردیف درد ہے۔ایک رات میں سویا ہوا تھا کہ اسی وزن میں میری زبان پر ایک مصرعہ جاری ہوا جو یہ ہے کہ درد ہی اُس نے بنایا ہے نشانِ اہلِ درد اور اس کا مطلب مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ ہر چیز کی کوئی علامت ہوتی ہے۔آگ کی علامت دُھواں ہے،سورج کی علامت روشنی ہے، جسم میں ورم ہو تو بخار ہو جاتا ہے اور طبیب سمجھ لیتا ہے لیکن درد کی علامت کوئی ھے نہیں بلکہ درد ہی درد کی علامت ہے۔اگر کوئی شخص یونہی شکایت کرنے لگے کہ مجھے درد ہے تو بظاہر ایسی کوئی علامت نہیں جس سے ہم پتہ لگاسکیں کہ اسے درد ہے یا نہیں سوائے اس کے کہ اُس کی درد والی حالت سے اندازہ لگائیں۔پس اس مصرعہ کا مطلب یہ ہے کہ جب تم کسی کے اندر درد کی حقیقت پاؤ تو سمجھ لو کہ اس کے اندر درد ہے ورنہ زبانی کہنے سے کچھ نہیں بنتا۔کسی کے اگر سر میں درد ہو تو وہ گو چھپائے بھی مگر پتہ لگ جاتا ہے کہ اسے درد ہے۔تو اس مصرعہ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ جس کے دل میں عشق۔