خطبات محمود (جلد 17) — Page 497
خطبات محمود ۴۹۷ سال ۱۹۳۶ یہاں تک تو یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ سے کیا مانگنا چاہئے ؟ آگے یہ فرماتا ہے کہ کن باتوں سے محفوظ رہنے کی انسان کو دُعا اور خواہش کرنی چاہئے اور وہ کونسی ذلت ہے جس سے بچے رہنے کا خواہشمند ہونا ضروری ہے؟ فرما یا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ الى يعنى ذلت اس کا نام نہیں کہ لوگ ہم کو گالیاں نہ دیں، ہمارا بائیکاٹ نہ کریں، ہمارا لین دین بند نہ کر دیں بلکہ حقیقی ذلت یہ ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ بھول جائے جس کا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں ذکر ہے یا انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ دے جس کا وَلَا الضَّالِّينَ میں ذکر ہے۔پس فرمایا کہ تم یہ دعا مانگو کہ اے خدا! تو ہم کو اپنے دربار سے نہ نکال اور ہم کو اس سے محفوظ رکھ کہ ہم تجھ کو چھوڑ کر کسی اور طرف چل دیں۔پس اس ذلت سے بچنے کی اگر ہم دعا کریں تو ہم پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ جب خود خدا تعالیٰ نے اس ذلت سے بچنے کا حکم فرمایا ہے تو پھر اعتراض کے کیا معنی؟ پس قرآن مجید کی بیان کردہ عزت اور ذلت تو یہ ہے کہ جس کا اوپر ذکر ہوا ہے۔اگر ہم اس عزت اور ذلت کے خلاف کوئی اور عزت اور ذلت ٹھہرا لیں اور اس عزت کے طالب اور اس ذلت سے بچنے کی کوشش کریں تو ہم اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے ہوں گے۔مولوی برہان الدین صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابہ میں سے تھے اور مدرسہ احمدیہ مولوی برہان الدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب کی یادگار کے طور پر بنا ہے تا کہ اس مدرسے سے ایسے عالم پیدا کئے جائیں جو ان کی کمی پوری کر سکیں اور ان کے جانشین بن سکیں۔اس سے ان کا احمدیت میں مقام معلوم ہوسکتا ہے۔اُن کے متعلق میں ایک واقعہ سنا کر بتانا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نیک بندے ذلت اور عزت کا کیا مفہوم لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب ۱۹۰۲ء میں یا ۱۹۰۳ء میں سیالکوٹ تشریف لے گئے تو غیر احمد یوں میں سے بعض نے شورش کرنے کا ارادہ کیا مگر اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا کہ وہاں حضور کو کوئی تکلیف نہ ہو اس لئے اُس نے یہ انتظام کر دیا کہ شہر کے ایک رئیس آغا باقر جو قادیان برائے علاج آچکے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت رکھتے تھے ڈپٹی کمشنر نے انتظام کیلئے ان سے مشورہ کیا۔انہوں نے اپنی خدمات انتظام کیلئے پیش کر دیں اور ساتھ مسٹر بیٹی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو لگائے جانے کی خواہش کی اور ڈپٹی کمشنر نے اسے منظور کر لیا۔چنانچہ ان دونوں نے مل کر