خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 490

خطبات محمود ۴۹۰ سال ۱۹۳۶ سکھلائی ہے اور وہ دعا ہر نماز میں کرنے کا حکم دیتا ہے۔یعنی یہ کہ اپنے لئے عزت مانگو اور ذلت سے بچنے کی کوشش کرو اور یہ تقاضا ایک طبعی تقاضا ہی نہیں بلکہ مذہبی اور روحانی تقاضا ہے۔اور اس حد تک بندہ مجرم نہیں ٹھہرتا بلکہ خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے والا اور اُس کی رضا کا طالب قرار پائے گا۔پس ان خطرات کے ایام میں اگر ہماری جماعت کے دوست عزت کے طالب اور ذلت سے محفوظ رہنے کے خواہشمند ہوں تو یہ کوئی بُری بات نہیں اس حد تک کہ وہ عزت کے طالب ہوں اور ذلت سے بچنے کی سعی کریں۔خدا تعالیٰ بھی ان کی خواہش کو جائز قرار دے گا اور اس کا رسول بھی مگر یہاں ایک اختلاف پیدا ہو سکتا ہے جو نظر انداز کئے جانے کے قابل نہیں اور وہ اس بات کے سمجھنے میں ہے کہ عزت کیا چیز ہے اور ذلت کیا ہے؟ اور کس رنگ میں مؤمن عزت کا طالب اور ذلت سے بچنے کا خواہشمند ہو تو اس کا یہ کام قابلِ اعتراض نہیں۔اور وہ کونسی صورت ہے کہ جب اس کا طالب عزت ہونا اور ذلت سے بچنے میں کوشاں ہونا قابلِ اعتراض ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے جہاں مؤمن کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ عزت کا طالب ہو اور ذلت سے بچنے کا خواہشمند ہو وہاں خود ہی عزت اور ذلت کی وضاحت بھی فرما دی ہے۔پس خدا تعالیٰ کی بیان کردہ طلب تو بہتر اور منشائے الہی کو پورا کرنے والی ہوگی لیکن اگر ہم عزت کا مفہوم بدل دیں اور اپنی طرف۔کوئی عزت ٹھہرا لیں اور پھر اُس کے طالب ہوں تو ہم مجرم ہوں گے۔ނ اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں عزت کا مفہوم یہ بیان فرمایا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اے یعنی ہم کو ان لوگوں کا سیدھا راستہ دکھا جن پر تیرا انعام ہوا۔وہ منعم علیہم لوگ کون تھے؟ ان کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولئِكَ رَفِيقًا ہے۔پس جو بندہ نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین والا انعام پانے کی جستجو کرتا اور نیکیوں اور تقویٰ کا طالب بنتا ہے وہ ہرگز جاہ کا طالب اور دین پر دنیا کو مقدم کرنے والا نہ سمجھا جائے گا بلکہ قرآن مجید کی رو سے وہ بندہ فرض الہی کو پورا کرنے والا اور منشائے الہی پر عمل کرنے والا سمجھا جائے گا کیونکہ وہ ان سب انعامات کو طلب کر رہا ہے جو انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کو ملے اور ان انعامات کی طلب جوان لوگوں کو ملے عین منشائے الہی بلکہ حکم الہی