خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 490

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۸۱ سال ۱۹۳۶ء داد، فریاد، بے انصافی ، بادشاہ نے دریافت کیا تو کہنے لگے کہ دشمن کا لشکر بہت بے انصافی کرتا ہے ۔ ہم تو چار چار مل کر ایک آدمی کو پکڑتے اور سر اور پاؤں کو پکڑ کر با قاعدہ بسم اللہ کہہ کے چھری پھیرتے ہیں لیکن دشمن بے تحاشہ تلواریں مار مار کر ہمارے بیسیوں آدمی ہلاک کر دیتا ہے اس لئے اس کا ازالہ کیا جائے ۔ اسی طرح ہمارے بعض نادان بھی یہی شور کرتے ہیں کہ ہم سچ بولتے ہیں اور آئینی طریق اختیار کرتے ہیں مگر ہمارے دشمن غیر آئینی کار روائیاں کرتے اور جھوٹ بولتے ہیں ان کی بات ایسی ہی ہے جیسے قصائیوں نے کی تھی کیا ہمارا دشمن بھی سچائی کا پابند ہے؟ کیا وہ بھی میری ہدایتوں پر چلنے کیلئے تیار ہے؟ کیا اس کے اخلاق کا بھی وہی معیار ہے جو تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے؟ کیا اس نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہوئی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی یہ بھی ایک دلیل ہے کہ تم سچ بولتے ہو اور تمہارا دشمن جھوٹ ، تم آئین کے مطابق چلتے ہو اور وہ غیر آئینی ذرائع اختیار کرتا ہے ، تم رحم کرتے ہو اور وہ سختی ، اگر تم صلى میں اور اس میں یہ فرق نہ ہوتا تو تم کو احمدیت میں داخل ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ دوسری طرف رحم کا معاملہ ہے۔ بہت تم میں ہیں جو چاہتے ہیں کہ اگر دشمن قابو آئے تو اس سے پوری طرح بدلہ لیا جائے لیکن یاد رکھو یہ طریق مسلمان کا نہیں ہوتا۔ مؤمن سے جب معافی طلب کی جاتی ہے تو وہ معاف کر دیتا ہے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی ممانعت آ چکی ہو ۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی خاص مصلحتوں کے ماتحت رحم سے روک دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وسیع علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم علی کو مخاط مخاطب کر کے فرماتا ہے عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ کے منافق جنگ میں نہ جانے کی اجازت لینے آئے اور تو نے اجازت دے دی۔ اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو دور کرے جو اس رحم سے پیدا ہو گی تو نے کیوں اجازت دی؟ محمد رسول اللہ ﷺ سے خدا کا علم زیادہ تھا اس لئے یہ فرمایا۔ پس ایسے مواقع کے علاوہ جہاں خدا کا حکم ہم کو رو کے شدید سے شدید دشمن بھی اگر ہتھیار ڈال دے تو ہمارا غصہ دور ہو جانا چاہئے ۔ ہاں مؤمن بیوقوف نہیں ہوتا اور وہ کسی کے دھوکا میں نہیں آتا۔ رسول کریم ہے تو توی یہاں تک احتیاط فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص نے میدان جنگ میں جب ایک مسلمان اسے صلى الله صلى الله روس مارنے لگا تھا کہہ دیا کہ میں صابی ہوتا ہوں ۔ کفار مسلمانوں کو صابی کہا کرتے تھے جس طرح آج