خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 489

خطبات محمود ۴۸۹ ۲۸ سال ۱۹۳۶ ہم کس حد تک دُنیوی عزت کے طالب ہو سکتے ہیں قربانیاں اور مصائب وہ کھڑکیاں ہیں جن میں سے ہم اپنے محبوب کو جھانک سکتے ہیں فرموده ۳۱ جولائی ۱۹۳۶ء بمقام دھرم ساله) تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - اس زمانہ میں ہماری جماعت کے خلاف طرح طرح کے منصوبے اور شرارتیں کی جاتی ہیں اور دشمن ہم کو ہر قسم کی تکلیف پہنچانے کے درپے ہیں۔اس موقع پر ہماری جماعت کو سورہ فاتحہ کے مضامین پر غور کرنا چاہیئے۔سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ مؤمن عزت کا طالب ہوتا ہے اور یہ کوئی بُری بات نہیں اور وہ ذلت سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ بھی کوئی بُری بات نہیں۔اگر یہ باتیں یعنی طلب عزت اور ذلت سے احتراز کی کوشش بُری ہوتیں تو یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ خدا تعالیٰ خود ہم کو ان کی طرف سورۃ فاتحہ میں توجہ دلاتا۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بندہ کچھ تو خدا تعالیٰ سے انعام مانگتا ہے اور کچھ باتیں ایسی ہیں جن سے محفوظ رہنے کی التجا کرتا ہے۔پس اگر عزت کی طلب اور ذلت سے بچنے کی سعی بُری بات ہے تو ہم کو خدا تعالیٰ ہرگز ایسی دعا نہ سکھلاتا جس میں یہ دونوں باتیں ہوں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے ہم کو ایسی دعا