خطبات محمود (جلد 17) — Page 465
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۵۶ سال ۱۹۳۶ء کا ہمارے دلوں میں مردہ ہو جانا نقصان دہ ہے۔ پس کیا فائدہ اس بات کا کہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر زور دیتے ہو جبکہ دوسری طرف خدا تعالیٰ کو لوگوں کے دلوں میں تم مار رہے ہو اور اسے زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ خدا تعالیٰ بے شک حی و قیوم ہے اور وہ کبھی نہیں مرتا مگر بعض انسانوں کے لحاظ سے وہ مربھی جاتا ہے۔ سے حضرت خلیفہ اسح الاول اپنے ایک استاد کا جو بھوپال کے رہنے والے تھے واقعہ سنایا کرتے تھے۔ آپ فرماتے ہیں انہوں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ بھو پال کے باہر ایک پل ہے وہاں ایک کوڑھی پڑا ہوا ہے ۔ جو کوڑھی ہونے کے علاوہ آنکھوں سے اندھا ہے، ناک اس کا کٹا ہوا ہے، انگلیاں اس کی جھڑ چکی ہیں اور تمام جسم میں پیپ پڑی ہوئی ہے اور مکھیاں اُس پر بھنبھنا رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں مجھے اسے دیکھ کر سخت کراہت آئی اور میں نے پوچھا بابا تو کون ہے؟ وہ کہنے لگا میں اللہ میاں ہوں ۔ یہ جواب سن کر مجھ پر سخت دہشت طاری ہوئی اور میں نے کہا تم اللہ میاں ہو۔ آج تک تو سارے انبیاء دنیا میں یہی کہتے چلے آئے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ خوبصورت ہے اور اس سے بڑھ کر اور کوئی حسین نہیں ، ہم جو اللہ تعالیٰ سے عشق اور محبت کرتے ہیں تو کیا اسی شکل پر؟ اس نے کہا انبیاء جو کچھ کہتے آئے وہ ٹھیک اور درست ہے میں اصل اللہ میاں نہیں میں بھو پال کے لوگوں کا اللہ میاں ہوں یعنی بھو پال کے لوگوں کی نظروں میں میں ایسا ہی سمجھا جاتا ہوں ۔ تو اللہ میاں یوں تو نہیں مرتا مگر جب کوئی انسان اسے بھلا دیتا ہے تو اس کے لحاظ سے وہ مرجاتا ہے۔ تو عجیب بات ہے ہمارے علماء حضرت عیسی کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ کسی وقت اگر یہ سوال پیدا ہو جائے کہ عیسی مر جائے مگر ساتھ خدا تعالیٰ بھی مر جائیں گے تو یقینا ہم یہی کہیں گے کہ اگر عیسی زندہ رہتا ہے تو زندہ رہنے دو لیکن خدا کو مر نے نہ دو کیونکہ اگر خدا زندہ رہا تو وہ زندہ عیسی کی وجہ سے بھی دنیا میں کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہونے دے گا۔ غرض اصل مضامین جن کی طرف ہمارے مبلغین کو توجہ کرنی چاہئے اُن کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اور نہ دلوں میں ایمان پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ خشک دلائل سے لوگوں کے قلوب پر اثر ڈالا جاتا ہے حالانکہ جس کے پاس اللہ تعالیٰ کے تازہ نشانات اور معجزات ہوں اور جو