خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 462

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۵۳ سال ۱۹۳۶ء جو گناہ کو بہت حد تک مٹا دے گا ۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ گناہ بالکل مٹ جائے گا کیونکہ یہ بہت مشکل بات ہے مگر بہت حد تک گناہ پر غالب آیا جا سکتا ہے یا اکثر حصہ جماعت میں ایسے لوگوں کا پیدا ہو سکتا ہے جو گناہوں پر غالب آجائے ورنہ کوئی نہ کوئی گناہگار تو ہر جماعت میں موجود ہوتا ہے جیسے کوئی نہ کوئی مریض یورپ میں بھی ہوتا ہے مگر ہندوستان میں چونکہ مریضوں کی کثرت ہے اس لئے ہم کہتے ہیں ہندوستان میں زیادہ بیماریاں ہیں ۔ یہاں کی اوسط عمر بیس سال ہے اور یورپ والوں کی اوسط عمر پچاس سال ہے اور گو یہ بھی مرتے ہیں اور وہ بھی ، اور یہ بھی بیمار ہوتے ہیں اور وہ بھی لیکن کثرت و قلت کے فرق کی وجہ سے یورپ کو ہندوستان سے بہتر سمجھا جاتا ہے ۔ غرض یہ فرق جماعت میں ہو سکتا ہے اور بہت سا حصہ ایسا پیدا کیا جا سکتا ہے جو نیک ہو مگر یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ہماری جماعت کے علماء باہر جا کر وفات مسیح پر زور دینے کی طرح جماعت کی اصلاح کی بھی کوشش کریں اور یہ بتا بتا کر اصلاح کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس قدر برکات سے حصہ دیا ہے۔ آپ پر کس طرح الہامات نازل ہوتے تھے، کس طرح اللہ تعالیٰ سے آپ محبت کرتے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ آپ کی تائید کیلئے کیسے کیسے عظیم الشان نشان ظاہر فرماتا تھا اور آپ کیلئے کس طرح اپنی غیرت کا اظہار کیا کرتا تھا اور یہ کہ یہ باتیں انہیں بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ باتیں بار بار جماعت کے سامنے بیان کی جائیں تو یقیناً اس میں طاقت پیدا ہو سکتی ہے اور اس کی قوت ارادی ایسی مضبوط ہو سکتی ہے کہ وہ ہزاروں گناہوں پر غالب آجائے اور ان سے ہمیشہ کیلئے محفوظ رہے۔ دوسری چیز علمی قوت ہے جو اصلاح اعمال میں محمد ہوتی ہے۔ اس کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ غلطی سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ کچھ گناہ بڑے ہوتے ہیں اور کچھ چھوٹے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن گناہوں کو وہ چھوٹا سمجھتے ہیں وہ ان کے قلوب میں راسخ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اگر ہمارے علماء اس بات پر زور دیں اور لوگوں کو بتایا کریں کہ کوئی گناہ چھوٹا نہیں ہوتا ہر گناہ خطرناک زہر ہے تو جماعت کی بہت کچھ اصلاح ہو جائے مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے سال بھر میں ایک مولوی ایک لیکچر بھی اس قسم کا نہیں دیتا اگر وہ اس قسم کے لیکچر دیتے تو یقیناً لوگوں کی اصلاح ہو جاتی ۔ خصوصیت سے اس قسم کے لیکچروں کی کالجوں ، سکولوں اور مدرسوں میں ضرورت ہوا کرتی