خطبات محمود (جلد 17) — Page 461
خطبات محمود ۴۶۱ سال ۱۹۳۶ میں اس قسم کی کمزوریاں نہ رہیں تو اس میں کیا شبہ ہے کہ گورنمنٹ منتیں کر کر کے ہم سے آدمی مانگے اور وہ ہمارے دیانتدار آدمیوں کو اپنے محکموں کا نگران مقرر کرنے کیلئے منتیں کرے۔پس یہ طریق ہے جس سے جماعت کی عملی اصلاح ہوسکتی ہے ورنہ خالی وفات مسیح اور ختم نبوت کے مسائل بیان کی کرنے سے جماعت کی عملی اصلاح نہیں ہو سکتی۔میں یہ نہیں کہتا کہ ان مسائل کا بیان کرنا ضروری کی نہیں وہ بھی ضروری ہیں مگر وہ ایک ابتدائی حربہ ہیں۔وہ ایسے ہی ہیں جیسے کلہاڑا لے کر ایک پہاڑ کو تو ڑا جائے مگر جو طریق میں نے بتایا ہے وہ ایسا ہے جیسے پہاڑ کے نیچے ڈائنا مائٹ رکھ کر اسے ضرب لگا دی جائے۔پس پیشتر اس کے کہ ایک تحریک جدید کا دوسرا حصہ آئے میں علماء سے امید کرتا ہوں کہ وہ ان لائنوں پر جماعت کو تیار کرنے کی کوشش کریں گے تا کہ وقت آنے پر جماعت کا کچھ حصہ فیل نہ ہو جائے۔یہ تو خدا تعالیٰ کا کام ہے اور بہر حال ہو کر رہے گا لیکن اگر تحریک جدید کے اس کی دوسرے حصہ کو بیان کرتے وقت دس ہیں ٹھوکر کھا کر مرتد ہو جائیں تو ان کا ارتداد بھی ہمارے لئے تکلیف دہ ہو گا۔کسی کے اگر ہزار بچے بھی ہوں تو بھی وہ پسند نہیں کر سکتا کہ اس کا کوئی بچہ مر جائے پھر ہم کب پسند کر سکتے ہیں کہ جب ہم اصلاح جماعت کیلئے کوئی عملی قدم اُٹھا ئیں تو دس ہیں یا پچاس سو مرتد ہو جائیں۔پس دوستوں کو دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے قلوب کی اصلاح کرے اور اس کی خامیوں اور نقائص کو دور کرے تا جس وقت عملی اصلاح کیلئے قدم اٹھایا جائے وہ اُس وقت لبیک کہہ کر آگے آجائیں اور دلی شوق سے ان پر عمل کرنے لگیں کسی دوسرے کو انہیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ل البقرة: ١٣٩ (الفضل ۱۹؍ جولائی ۱۹۳۶ء) بخاری کتاب التفسير باب لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا (الخ) النور : ۵۶ النصر : ۲ تا ۴