خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 461

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۵۲ سال ۱۹۳۶ء کرتے۔ صاف پتہ لگتا ہے کہ انہیں ان چیزوں کا علم نہیں دیا جاتا اور خدا تعالیٰ کے تازہ نشانات کا ان کے سامنے ذکر نہیں کیا جاتا۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد سخت بیمار تھا اُس نے ایک کپڑے کی خواہش کی ( یہ اس کی مرضِ موت تھی ) ۔ کلکتہ کی کوئی فرم تھی اُس سے وہ کپڑا مل سکتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ کپڑا اُس کیلئے منگوا دیا مگر اس کے بعد مبارک احمد شاید فوت ہو گیا یا اور زیادہ بیمار ہو گیا کہ اسے اس کپڑے کی خواہش نہ رہی ۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ کپڑا ہم تینوں بھائیوں میں بانٹ دیا۔ میں نے اُس کی صدری بنوالی جب میں صدری پہن کر باہر نکلا تو ایک دوست مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے آپ یہیں ٹھہریں مجھے ایک کام ہے میں ابھی آتا ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد آگئے ۔ میں نے پوچھا کہاں گئے تھے؟ کہنے لگے ایک ضروری کام تھا۔ دو تین دن کے بعد وہ آئے تو انہوں نے بھی ایک صدری پہنی ہوئی تھی ۔ کہنے لگے جب میں نے آپ کو صدری پہنے دیکھا تو میں نے کہا میں بھی اب اس قسم کی دھاری دار صدری بنوا کر رہوں گا ۔ چنانچہ اُسی وقت میں گیا اور بازار سے کپڑا خرید کر صدری سلوالی ۔ خیر اس میں بھی ایک لطیفہ تھا اور وہ یہ کہ ہمارا کپڑا ٹسری تھا اور اس دوست کا کپڑا گبرون یا لدھیانہ کی قسم کا تھا لیکن اس سے اس خواہش کا پتہ چلتا ہے جو دوسروں کی اچھی چیز دیکھ کر انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اب کیا یہ لطیفہ نہیں کہ کسی کی دھاری دار صدری دیکھ کر تو دل بے تاب ہو جائے اور یہ خواہش ہو پیدا ہو کہ کاش! میرے پاس بھی ایسی ہی صدری ہو لیکن الہام الہی کا ذکر سُن کر اللہ تعالیٰ کے قرب اور محبت کی باتیں سن کر ہمارے دلوں میں یہ خواہش پیدا نہ ہو کہ ہمیں بھی الہام ہوں ، ہمارے لئے بھی خدا تعالیٰ اپنے نشانات دکھایا کرے اور ہمیں بھی اپنی محبت سے نوازے۔ اس کی بڑی وجہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ہے کہ ہمارے سلسلہ کے علماء اور ہمارا سمجھدار طبقہ نو جوانوں کے سامنے اس رنگ میں ان باتوں کو پیش نہیں کرتا کہ یہ امور سہل الحصول اور ممکن الحصول ہیں ۔ اول تو انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کا کیا تعلق تھا اور اگر پتہ بھی ہو تو وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مخصوص تھیں حالانکہ یہ صحیح نہیں ۔ پس اگر ا یہ تڑپ ہماری جماعت میں عام ہو جائے تو ایک بہت بڑا طبقہ ہماری جماعت میں ایسا پیدا ہو سکتا ہے