خطبات محمود (جلد 17) — Page 455
خطبات محمود ۴۵۵ سال ۱۹۳۶ میں وہ جبراً نیکی کے اعمال بجالاتا ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کے دل میں بھی ایمان پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور وہ خوشی سے نیک اعمال میں حصہ لینے لگ جاتا ہے۔یہ ذرائع ہیں جن سے بُرے اعمال کا علاج کیا جاسکتا ہے بغیر ان ذرائع کو اختیار کئے اصلاح اعمال میں کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔یعنی ایمان کا پیدا کرنا، علم صحیح کا پیدا کرنا، نگرانی کرنا اور جبر کرنا یہ چار چیزیں ہیں جن کے بغیر تمام قوم کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔دنیا میں ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو ایمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتا۔ایسے لوگوں کے قلوب میں اگر قوت ایمانیہ بھر دی جائے تو ان کے اعمال درست ہو جاتے ہیں لیکن ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو عدم علم کی وجہ سے گناہوں کا شکار ہوتا ہے اس کیلئے علم صحیح کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک طبقہ جو نیک اعمال میں حصہ لینے کیلئے دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے وہ نگرانی کا مستحق ہوتا ہے اور وہ طبقہ جو بالکل گرا ہوا ہو وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے اور جب تک اسے سزا نہ دی جائے اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔اگر ہم ان چاروں ذرائع کو اختیار کریں گے تو ہم کامیاب ہوں گے اور اگر ہم ان چاروں ذرائع میں سے ایک ذریعہ کو بھی چھوڑ دیں گے تو کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے کیونکہ جس زمانہ کی میں مذہب کے پاس نہ حکومت ہو نہ تلوار اُس زمانہ میں یہ چاروں علاج ضروری ہوتے ہیں۔مگر یہ کی کہ پہلے دو ذرائع چھوڑ کر مؤخر الذکر دو ذرائع کی تفصیل کیا ہے اور کس کس طرح ان پر عمل کرنا چاہئے اس کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ یہ میری تحریک جدید کا دوسرا حصہ ہے اور انہیں اُسی وقت بیان کیا جائے گا جب تحریک جدید کے دوسرے حصہ کو پیش کرنے کا وقت آیا۔لیکن اصول میں نے بیان کر دیئے ہیں اور اس سے دوست بہت حد تک فائدہ بھی اُٹھا سکتے ہیں لیکن دو چیز میں ایسی ہیں جن پر عمل شروع ہو جانا ضروری ہے۔ان میں سے پہلی چیز جس پر ابھی سے عمل شروع کر دینا تھی چاہئے یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات ، آپ کی وحی ، آپ کے الہامات کی اور آپ کے تعلق باللہ کا متواتر لوگوں کے سامنے ذکر کیا جائے اور ہر شخص کو بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی کیا فوائد ہیں، اس کی محبت انسان کو کس طرح حاصل ہو سکتی ہے اور اس کا پیار جب کسی انسان کے شامل حال ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے کس طرح امتیازی سلوک کرتا ہے۔حضرت عیسی بے شک زندہ آسمان پر بیٹھے رہیں ، ان کا آسمان پر زندہ بیٹھے رہنا اتنا نقصان دہ نہیں جتنا خدا تعالیٰ