خطبات محمود (جلد 17) — Page 422
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۱۳ (۲۳) سال ۱۹۳۶ء قادیان کے احرار اپنے مردوں کو پاک رکھنے کیلئے علیحدہ قبرستان بنانے کیلئے روپیہ یا زمین لے لیں (فرموده ۲۶ جون ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میرے گلے کی تکلیف ابھی تک بڑھتی چلی جارہی ہے اس وجہ سے میں درس بھی نہیں دے سکتا اور اب تو خطبہ بیان کرنا بھی سخت مشکل نظر آتا ہے گلے میں ایک ایسی تکلیف پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے آواز بولنے کے بعد بھرا جاتی ہے اور پھر اونچا نہیں بولا جاسکتا اور گلے کے بائیں طرف کا حصہ ایساسن معلوم ہوتا ہے جیسے جسم کا کوئی حصہ سویا ہوا ہوتا ہے۔ پس ان حالات میں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اپنی آواز دوستوں تک پہنچا سکوں گا یا نہیں اور کہ اپنے مضمون کو کما حقہ ادا کر سکوں گا یا اختصار سے کام لینا پڑے گا۔ گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے بعض خیالات کا اظہار اس قبرستان کے متعلق کیا تھا جو قادیان کا بڑا قبرستان کہلاتا ہے اور جس میں قریباً ہر خاندان کے کچھ افراد مدفون ہیں۔ میں نے ذکر کیا تھا کہ اس قبرستان میں ہمارا ویسا ہی حق ہے جیسے دوسروں کا اور کسی کو یہ حق نہیں کہ ہماری جماعت کے مردوں کو وہاں دفن ہونے سے روکے اور اپنے اس حق کو حاصل کرنے سے ہم کسی صورت میں باز نہیں رہ سکتے ۔ اگر وہاں کسی کے دفن ہونے پر کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے تو وہ ہمیں