خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 42

خطبات محمود ۴۲ سال ۱۹۳۶ء صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اتنے آدمی تنخواہیں لے رہے ہیں اور کھا رہے ہیں ، وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ یہ لوگ وقت خرچ کرتے ہیں، دین کی خدمت کرتے ہیں انہیں صرف تنخواہوں پر ایک کثیر رقم کا خرچ ہونا دکھائی دیتا ہے لیکن اگر شروع سے ایسا انتظام ہوتا کہ تنخواہوں کا بار چندوں پر نہ پڑتا تو منافقوں کو کمزور طبائع کے لوگوں میں بے چینی پیدا کرنے کا موقع نہ ملتا۔اگر چہ قرآن کریم نے اس امر کی پوری تصریح کردی ہے کہ جس کام پر جو لوگ مقرر ہوں اُن کی تنخواہیں اُسی کام کا حصہ ہوتی ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ جو شخص اپنا سارا وقت دے گا وہ گزارہ بھی لے گا۔دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ وہ باہر کی نسبت یہاں کم گزارہ لیتے ہیں یا زیادہ؟ یا ان کے کام کی قیمت سے ان کا گزارہ کم ہے یا زیادہ؟ اگر ان کے کام، ان کی لیاقت اور منڈی کی قیمت کے لحاظ سے ان کی تنخواہیں کم ہیں تو یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں خواہ ایسے لوگوں کی تعداد ہزار ہو۔کیونکہ کام چلانے کیلئے جتنے لوگوں کی ضرورت ہو گی اُتنے رکھنے ہی پڑیں گے مگر پھر بھی اس سے چونکہ کمزور طبائع کو دھوکا لگ سکتا ہے اس لئے پہلے سے ہم کو ایسا انتظام کرنا چاہئے تھا کہ مستقل اخراجات کا بار عام چندوں پر نہ پڑے۔تحریک جدید کے متعلق میرا یہی خیال ہے کہ اس کے مستقل اخراجات ریز رو فنڈ کی آمد سے ادا کرنے کا انتظام کیا جائے اور چندوں کا ایک ایک پیسہ ہنگامی کاموں پر خرچ ہو، تا ہر ایک شخص کو نظر آسکے کہ تحریک کے کاموں پر کیا خرچ ہورہا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ بظاہر یہ بات کمزوروں یا منافقوں کے ڈر کی وجہ سے معلوم ہوتی ہے مگر وہ بات جو سلسلہ کو مضبوط کرنے والی ہو وہ ڈر نہیں بلکہ احتیاط ہے۔قرآن کریم میں حکم ہے کہ خُذُوا حِذْرَكُم لے اِس سے شیعوں نے تقیہ کا جواز ثابت کیا ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں۔اس کا مطلب یہی ہے کہ جہاں تک اعتراض سے بچ سکو بچنا چاہئے۔رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ اِتَّقُوا مَوَاقِعَ الْفِتَنِ سے یعنی فتنوں کی جگہوں سے بچتے رہو۔میں نے چھ سات سال قبل ریز رو فنڈ کی تحریک کی تھی تاہم تبلیغی کام کو اس اُتار چڑھاؤ سے جو مالی لحاظ سے دنیا پر آتے رہتے ہیں بچا ئیں۔دنیا میں کبھی قحط پڑ جاتا ہے اور زمیندار چندہ نہیں ادا کر سکتے کبھی اشیاء گراں ہو جاتی ہیں اور ملازموں کے چندوں میں کمی ہو جاتی ہے اور کبھی تجارتی کساد بازاری کے باعث تاجر پورے چندے ادا نہیں کر سکتے اس لئے ایسے اُتار چڑھاؤ کی