خطبات محمود (جلد 17) — Page 410
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ وو ۴۰۱ سال ۱۹۳۶ء صلى الله ذات پر حملہ ہوا تو اس وقت محمد ﷺ خاموش نہ رہے بلکہ آپ نے کفار کو جواب دیا۔ محمد ﷺ کی جائدادیں اور آپ کے اموال اور آپ کے املاک اور آپ کی زمینیں چھین چھین کر دشمنوں نے جو حالت کر دی تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ جب آپ حج کیلئے فتح مکہ کے بعد مکہ تشریف لائے تو کسی نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! آپ کہاں ٹھہریں گے؟ کیا ہی وہ دردناک جواب ہے جو رسول کریم ﷺ نے دیا۔ آپ نے فرمایا ہمارے لئے تو عقیل نے کوئی گھر چھوڑا ہی نہیں ہم کہاں ٹھہریں گے ۔ وہ شخص جس کے باپ دادے مکہ پر حکومت کرتے چلے آئے تھے سات سال کے بعد مکہ میں ایک اجنبی کی حیثیت میں آتا ہے اور جب اُس سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ آپ کہاں ٹھہریں گے؟ تو وہ مسیح علیہ السلام کی طرح کہتا ہے درندوں کیلئے ماندیں ہیں اور چڑیوں کیلئے گھونسلے مگر ابن آدم کیلئے سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں، یہ ہمارے لئے تو کوئی گھر ہی باقی نہیں رہا ہم کہاں ٹھہریں گے ۔ مگر خدا تعالیٰ کیلئے انہی محمد ﷺ کی غیرت دیکھو کہ حنین کے موقع پر صحابہ ایک وجہ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ، اسلامی لشکر کفار کی شمولیت کی وجہ سے تتر بتر ہو جاتا ہے صرف بارہ آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد رہ جاتے ہیں اور چار ہزار کا لشکر دونوں طرف سے تیروں کی بارش برسا رہا ہے ایسی حالت میں گھبرا کر صحابہ عرض کرتے ہیں کہ يَا رَسُولَ اللهِ! یہ کھڑے رہنے کا موقع نہیں میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹئے اور ایک تو وفور محبت کی وجہ سے آپ کے گھوڑے کا باگ پکڑ لیتا اور اسے آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے مگر رسول کریم ﷺ اس کو ہٹا دیتے ہیں اور فرماتے ہیں چھوڑ دو میرے گھوڑے کی باگ ۔ اور اپنی سواری کو ایڑ لگا کر دشمن کی طرف بڑھتے ہیں اور لشکر کفار میں نڈر ہو کر گھس جاتے اور فرماتے ہیں أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ لا یعنی کیا اس وقت صحابہ کی ایک غلطی کی وجہ سے تم یہ سمجھتے ہو کہ میں جھوٹا ہوں؟ ہرگز نہیں میں خدا کا سچا نبی ہوں اور دیکھو! میں اکیلا اس وقت تمہاری طرف بڑھ رہا ہوں لیکن اس طرح میرا دشمنوں کی طرف بڑھتے چلے جانا لوگوں کو حیرت میں ڈال دے گا اور وہ کہیں گے شاید یہ خدا ہے مگر سنو یہ درست نہیں میں خدا نہیں بلکہ عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔ تو غیرت دکھانے کے بھی موقعے ہوتے ہیں اور جانیں دینے کیلئے بھی موقعے ہوتے ہیں مگر بہر حال کام ایسے طریق پر ہونا چاہئے کہ اس