خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 409

خطبات محمود ۴۰۹ سال ۱۹۳۶ء میں حیران ہوتا ہوں کہ نیشنل لیگوں نے یہ کیا اصل بنا رکھا ہے کہ فلاں جگہ کے احمدیوں پر ظلم ہو ا ہم اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے اور گورنمنٹ کو توجہ دلاتے ہیں۔تم کس گورنمنٹ کو توجہ دلاتے ہو اور تمہارے کتنی بار توجہ دلانے پر اس نے توجہ کی ہے۔بے شک چونکہ خدا تعالیٰ نے ہم پر ایک حکومت قائم کی ہے اس لئے جس جگہ اس قسم کا کوئی واقعہ ہو وہاں کے لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ حکومت کو اطلاع دیں اور مرکز کا بھی فرض ہوتا ہے کہ ان پر دشمنانِ سلسلہ کی طرف سے جو مظالم ہوتے ہیں ان کے انسداد کیلئے حکومت کو توجہ دلائے مگر یہ نیشنل لیگیں خواہ مخواہ بے فائدہ کیوں شور مچاتی رہتی ہیں۔ان کو چاہئے کہ وہ بچی قربانی پیش کریں اور اپنے عمل سے سلسلہ کی عزت کی حفاظت کریں اگر وہ کام کرنا چاہیں تو قانون کے اندر رہتے ہوئے بیسیوں کام کر سکتیں اور اپنے بھائیوں کی مدد کر سکتی ہیں۔مثلاً نیشنل لیگیں بجائے اس کے کہ یہ ریزولیوشن پاس کریں کہ ہم گورنمنٹ کو توجہ دلاتی ہیں اگر ہر نیشنل لیگ ایک ایک آدمی اپنے خرچ پر اپنے بھائیوں کی امداد کیلئے بھیج دیتی تو یہ ریزولیوشن کے ذریعہ گورنمنٹ کو توجہ دلانے سے ہزار درجے زیادہ بہتر تھا۔پس سچی قربانی کرو اور فضول اور لغو باتیں چھوڑ دو کہ خدا تعالیٰ فضول اور لغو باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔یہ باتیں میں نے اتنی بار کہی ہیں کہ اب کہتے کہتے میرا گلا بھی اس قدر متورم اور ی زخمی ہو چکا ہے کہ خطبہ جمعہ اور اس کے بعد نماز میں قراءت بھی بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتا اور گلا بیٹھ جاتا ہے۔پس میں تو اب اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ایسے لوگ مجھے عطا کرے جو بچے طور پر میری باتیں سن کر ان پر عمل کرنے والے ہوں۔مجھے اس سے کیا فائدہ کہ لاکھوں آدمی میرے ساتھ ایسے ہوں جو میری باتوں پر عمل کرنے والے نہ ہوں۔سچے مومن تو میرے ساتھ اگر دس میں ہوں تو وہی لاکھوں آدمیوں سے میرے لئے زیادہ خوشی کا موجب ہو سکتے ہیں۔پس وہ قربانی کرو جو حقیقی قربانی ہو زبانی قربانی خدا تعالیٰ کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔تم اپنی جانوں اور اپنے اموال کی قربانی کرو، دین کی خدمت میں اپنے آپ کو لگا ؤ اور زیادہ سے زیادہ اپنے اموال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔تبلیغ کیلئے باہر نکل جاؤ اور وہی جو تمہیں گالیاں دیتے ہیں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خدام میں داخل کرو پھر دیکھو کہ دنیا کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے یا نہیں بدلتا۔