خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 409

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۰۰ سال ۱۹۳۶ء صلى الله ۔ تھے کہ ایسی حالت میں دشمن کو چھیڑا جائے اسی لئے آپ صحابہ کو جواب دینے سے منع فرماتے رہے کہ دشمن کو انگیخت کرنے کا کیا فائدہ؟ جب انہوں نے سمجھ لیا کہ رسول کریم ﷺ بھی مارے گئے ہیں اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی الله تعالى عَنْهُمَا بھی مارے گئے ہیں تو ابو سفیان زور سے چلا یا اور اُس نے بلند آواز سے نعرہ مار کر کہا اُعْلُ هُبُلُ اعْلُ هُبُل قبل مشرکین مکہ کا بہت بڑا دیوتا سمجھا جاتا تھا ، اُس کا نام لے کر ابو سفیان نے پکارا اُس کی شان بلند ہو کیونکہ قبل آخر توحید پرستوں کے مقابلہ میں جیت گیا ، یہ لوگ مارے گئے اور جھیل کو فتح ہوئی ۔ جب ابوسفیان نے یہ نعرہ لگایا ب وہی محمد ﷺ علی جو تینوں موقعوں پر صحابہ کو خاموش کرتے چلے آئے تھے اور صحابہ بھی اس ۔ لئے خاموش تھے کہ رسول کریم جواب دینا پسند نہیں فرماتے تھے جب ابو سفیان نے کہا اُعْلُ هُبل صلى الله صلى الله اُعْلُ هُبُل تو آپ کی ساری احتیاط اور سارا حرم جاتا رہا اور آپ نے صحابہؓ سے فرمایا کیوں جواب نہیں دیتے ؟ انہوں نے کہا کہ يَا رَسُولُ اللهِ ! ہم تو اس لئے خاموش ہیں کہ آپ نے ہمیں جواب دینے سے منع فرمایا ہے ۔ آپ نے فرمایا نہیں اب جواب دو۔ انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! کیا جواب دیں۔ آپ نے فرمایا کہو اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ سے تمہارا حبل جھوٹا ہے اللہ ہی ہے جو عزت اور جلال والا ہے تو محمد ﷺ کے طریق عمل نے ہم کو بتا دیا کہ ہماری غیرتیں کیا اور ہمارے جوش کیا اور ہماری ہمتیں کیا سب خدا اور اس کے رسول کیلئے ہونی چاہئیں ۔ پس ہزاروں قربانیوں کے موقعے تمہارے لئے موجود ہیں ۔ سات ہزار کی قادیان کی احمدی آبادی ہے اس میں سے کم سے کم ڈیڑھ ہزار مرد ہوں گے ۔ میں نے تبلیغ عام کا اعلان کیا ہوا ہے مگر ان میں سے کتنے ہیں جو سال میں سے ایک مہینہ قربان کر کے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام دنیا میں پہنچانے کیلئے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ اگر ہم واقعہ میں غیرت مند ہیں تو کیوں ہماری غیرتیں خدا تعالیٰ کے نام کیلئے جوش میں نہیں آتیں ۔ آخر خدا کے سپاہی اور گاؤں کے گنوا ر لٹھ باز میں کوئی فرق بھی تو ہونا چاہئے ۔ وہ فرق یہی ہے کہ گنوار لٹھ باز کی غیرت اس وقت بھڑکتی ہے جب اس کے گھر پر کوئی شخص حملہ آور ہو لیکن خدا تعالیٰ کے سپاہی کی غیرت اُس وقت بھڑکتی ہے جب خدا تعالیٰ کے گھر پر کوئی شخص حملہ آور ہو محمد ﷺ کے گھر پر حملہ کیا گیا آپ نے اپنا گھر چھوڑ دیا محمد ﷺ کے وطن پر حملہ کیا گیا آپ نے اپنا وطن چھوڑ دیا لیکن جب خدا تعالیٰ کی صلى الله صلى الله