خطبات محمود (جلد 17) — Page 405
خطبات محمود ۴۰۵ سال ۱۹۳۶ء وجہ سے خدا تعالیٰ نے پیشگوئی ٹلا دی تو عیسائیوں نے تو شور مچانا ہی تھا بعض بیوقوف مسلمانوں نے بھی خوشی منائی اور کہنا شروع کر دیا کہ حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ جھوٹی نکلی ہے۔اُس زمانہ میں بہاولپور کے جو نواب صاحب تھے ان کے پیر میاں غلام فرید صاحب چاچڑاں والے تھے جو ایک نہایت ہی نیک اور بزرگ انسان تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر وہ ایمان لائے تھے۔نواب صاحب کے دل میں ان کی بڑی عقیدت تھی اور وہ ان کا بہت ادب کیا کرتے تھے اور میاں غلام فرید صاحب بھی انہیں اس طرح ڈانٹ لیتے جس طرح اُستاد شاگر دکو ڈانٹتا ہے۔اتفاقاً ایک دن جبکہ دربار لگا ہوا تھا عبد اللہ آتھم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کا ذکر چل پڑا اور لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب نے آتھم کی موت کے متعلق پیشگوئی کی تھی مگر وہ جھوٹی نکلی لوگ اس کا ذکر کر کے دیر تک ہنستے اور تمسخر اُڑاتے رہے اور میاں غلام فرید صاحب چاچڑاں والے خاموش بیٹھے رہے۔آخر اس ہنسی میں نواب صاحب بھی شریک ہو گئے اور کہنے لگے واقعہ میں مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی ہے۔اس پر میاں غلام فرید صاحب نہایت جوش میں آگئے اور فرمانے لگے غلط ہے کون کہتا ہے آتھم زندہ ہے مجھے تو اس کی لاش سامنے نظر آرہی ہے۔پس تم کیوں اپنے خدا پر بدظنی کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ وہ ان افسروں کو بغیر بدلہ لئے یونہی چھوڑ دے گا اگر ان افسروں کا مستقبل تمہارے سامنے آجائے گی تو تم حیران ہو جاؤ کہ ان کیلئے خدا تعالیٰ نے کیا مقدر کیا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار ان کے آگے ہوتی ہے۔میں نے بارہا کہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور آپ کی وحی کا مطالعہ رکھا کرو تمہیں معلوم ہوگا کہ ان الہامات میں ان فتنوں کے متعلق بھی بہت کچھ خبر میں پائی جاتی ہیں۔پس اس بات سے مت گھبراؤ کہ دنیوی حکومت کے بعض عمود تمہارے خلاف حصہ لیتے ہیں وہ عمود نظر آتے ہیں مگر وہ گھن کھائی ہوئی لکڑیاں ہیں جو آج گریں یا کل گریں۔تم دیکھو گے کہ وہی حکومت جس کے وہ کل پرزے کہلاتے ہیں اسی حکومت کے ہاتھوں وہ سزا پائیں گے اور خدا تعالیٰ ان کے عیبوں کو پوشیدہ نہیں رہنے دے گا۔