خطبات محمود (جلد 17) — Page 404
خطبات محمود ۴۰۴ سال ۱۹۳۶ء سے دھو کا نہیں کھانا چاہئے۔میں نے بتایا ہے کہ عدالتوں کا راستہ کھلا ہے ہمارے حق بھی عدالتوں کی کے ذریعہ طے ہو سکتے ہیں اور ہمارے مخالفین کے حقوق بھی عدالتوں کے ذریعہ طے ہو سکتے ہیں اور اگر عدالتیں ہمارے خلاف فیصلہ کریں تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہم اپنا حق عدالتوں سے منوا نہیں سکے کیونکہ بہر حال ایک جگہ معاملہ کو ختم کر دینا پڑتا ہے اور اس صورت میں عدالت جو آخری فیصلہ دے اسے تسلیم کرنا پڑے گا۔اگر عدالت شرارت سے خلاف حق فیصلہ کرے تو خدا تعالیٰ کے حضور ہم اپیل کریں گے اور اگر وہ دیانتداری سے اپنی سمجھ کے مطابق ایک فیصلہ کر دے تو چاہے وہ ہمارے خلاف ہی ہو ہم صبر کریں گے اور اگر وہ ہمیں ہمارا حق دلا دے تو و ہم خوش ہونگے کہ ہمیں اپنا حق مل گیا ( مگر یہ صرف دنیوی امور کے متعلق ہے دینی امور کے بارہ میں کوئی عدالت ہم پر حاکم نہیں ہو سکتی۔پس میں پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں ( بغیر مقدمہ کی تفصیلات میں پڑنے کے ) کہ ہمیشہ ان کو ایسی باتوں سے بچنا چاہئے جن میں وہ زیر الزام آ جائیں کیونکہ گورنمنٹ کے بعض افسر پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح وہ جماعت کے افراد پر الزام لگائیں ان کو ایسے مواقع خدا دے۔پھر میں نے بار ہا بتایا ہے کہ یہ مت سمجھیں آپ کیلئے اپنے حقوق حاصل کرنے کے ذرائع نہیں۔گزشتہ پونے دو سال میں جو احرار سے ہماری لڑائی ہوئی وہ ظاہر ہے اور اس کے نتائج بھی ظاہر ہیں۔بغیر قانون شکنی کئے کیا احرار کا زور ٹوٹ گیا یا نہیں ٹوٹا؟ اور کیا اپنے بھائیوں میں ہی وہ ذلیل ہوئے یا نہیں ہوئے؟ پھر کیا گورنمنٹ کے وہ افسر جنہوں نے ہمیں نقصان پہنچایا اور ہم سے بلا وجہ دشمنی کی وہ اور ابتلاؤں اور مصائب میں پڑے ہیں یا نہیں پڑے؟ اور جو افسرا بھی باقی ہیں خدا تعالیٰ انہیں بھی پکڑے گا اور سزادے گاتم گھبراتے کیوں ہو۔کسی نے کہا ہے دیر گیرد سخت گیرد مر ترا خدا تعالی دیر سے پکڑتا ہے مگر جب پکڑتا ہے تو سخت پکڑتا ہے۔پس تم کیوں سمجھتے ہو کہ بعض افسر پکڑے گئے اور بعض بچے ہوئے ہیں۔جو افسر بظاہر بچے ہوئے نظر آتے ہیں در حقیقت سے نہیں بچے وہ تمہیں بچے ہوئے نظر آتے ہیں مگر مجھے بچے ہوئے نظر نہیں آتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب پادری عبداللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی کی اور اُس کے ڈر جانے کی