خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 403

خطبات محمود ۴۰۳ سال ۱۹۳۶ء ہمارے خاندان نے ان کے مُردوں کو دفن کرنے کا انتظام نہ کیا تو پھر بے شک وہ اعتراض کر سکتے ہیں لیکن جب ہم نے ہندوؤں کو اس مخالفت کے زمانہ میں ان کی مڑہیوں کیلئے جگہ دی ہے تو کیا ہم مسلمانوں کو قبروں کیلئے زمین نہ دیں گے۔پس با وجود تمام مخالفتوں کے اگر آج احرار کیلئے جگہ ختم ہو جائے تو کم سے کم میں اپنی زندگی تک کہہ سکتا ہوں کہ ان کو قبرستان کیلئے کوئی زمین خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ان کے بھائیوں اور ہم مذہبوں سے پہلے ان کی تکلیف میں میں ان کی امداد کرنے کیلئے تیار ہوں گا مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ حق جو خدا تعالیٰ نے ہمارا قائم کیا ہے ہم اسے چھوڑ دیں۔وہاں میری ایک بہن مدفون ہے، میرے ہوش کے زمانہ میں فوت ہوئی ، اسے ہاتھوں پر اُٹھا کر کچھ دور لے گئے ، پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہاتھوں پر اٹھا کر لے گئے۔میری خلافت کے ایام میں وہاں ہماری ایک بھانجی بھی دفن ہوئی تھی ، ہمارے بہت سے لوگ وہاں دفن ہوتے چلے آئے ہیں ابھی دو تین مہینے کی بات ہے چوہدری عبد الرحمن صاحب سر براہ نمبر دار کی بیوی فوت می ہوئیں وہ وہیں دفن کی گئیں، محلہ دار الرحمت کے کئی مردے پچھلے ایام سے وہاں دفن ہوتے چلے آئے ہیں کیونکہ سب سے قریب انہیں وہی جگہ پڑتی ہے۔پس کوئی حکومت ہم کو اس حق سے باز نہیں رکھ سکتی۔لیکن اگر حکومت ظالمانہ طور پر ہمیں اس حق سے باز رکھے گی تو پھر ہمارا اصل وہی ہو گا جس کا ہم نے کئی بار ا ظہار کیا ہے کہ گورنمنٹ کا قانون نہیں تو ڑ نا مگر گورنمنٹ سے میری مراد وہ بارہ بارہ روپیہ کے کانسٹیبل نہیں جو خواہ مخواہ اپنے اوپر گورنمنٹ کا چوغہ پہن کر آ جاتے ہیں بلکہ گورنمنٹ سے مراد گورنمنٹ ہے۔مثلاً حکومت پنجاب ہے حکومت پنجاب کا نمائندہ ڈپٹی کمشنر اگر تحریری طور پر حکم دے دے کہ میں جماعت احمدیہ کو اس بات سے روکتا ہوں کہ وہ اس قبرستان میں اپنے مر دے دفن کرے تو پھر ہم عدالتوں کے ذریعہ اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر عدالتوں کے ذریعہ بھی ہمیں اپنا حق نہیں ملے گا تو ہم دعاؤں کے ذریعہ اپنے خدا سے اس حق کو حاصل کریں گے مگر بہر حال ہم قانون شکنی کسی صورت میں نہیں کریں گے۔اس شورش کی وجہ بھی معلوم ہے اور میں ان احمدیوں کو بھی جانتا ہوں جو اس کے پیچھے ہیں۔پولیس والوں کو بعض بدعنوانیوں کی وجہ سے جھاڑیں پڑی تھیں اب وہ اس کا بدلہ لینے کیلئے یہ تدبیریں کر رہے ہیں اور معاملات کو غلط ملط کر رہے ہیں۔پس ہماری جماعت کو ایسی تدبیروں