خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 402

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۹۳ سال ۱۹۳۶ء غصہ، محبت ، نفرت یا عادت کا دخل ہوتا ہے اور اس وجہ سے ان کی آہستہ آہستہ اصلاح ہوتی ہے۔ پس ایک طرف تو میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اصلاح اعمال کے ذرائع پر غور کرے اور جو مفید تجاویز میں محمد و معاون بنیں گے وہ اپنے دلوں میں یہ نیت کر لیں کہ اگر انہیں ان ذرائع کے اختیار کرنے کے نتیجہ میں اپنے بیوی بچوں ، بھائیوں اور بہنوں اور دوسرے عزیز واقارب کو چھوڑنا پڑے تو وہ اس قربانی کیلئے ہر وقت تیار رہیں گے۔ اوّل تو ایمانداروں سے یہ امید ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ یہ دھمکی سننے کیلئے تیار ہوں ۔ ہمیں تو امید رکھنی چاہئے کہ وہ اصلاح اعمال کے ذرائع سنتے ہی فوراً ان پر عمل کرنا شروع کر دیں گے لیکن جو اس کیلئے تیار نہ ہوں جماعت کے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ صاف طور پر ان سے کہہ دیں کہ آج کے بعد ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں ۔ مت سمجھو کہ اس قسم کی ہنگامہ خیزی کوئی برا نتیجہ پیدا کرے گی ۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی قربانی بُرے نتائج پیدا نہیں کر سکتی ۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے میرے شیطان کو بھی مسلمان بنا دیا ہے سے یعنی میرا شیطان بھی مجھے جو تحریک کرتا ہے وہ اچھی ہوتی ہے۔ اسی طرح رسول کریم کا جو سچا اور کامل متبع ہو اُس پر جو مشکلات آتی ہیں وہ اُس کی تباہی کا موجب نہیں ہوتیں ۔ پس ہر قربانی جو اسلام کی ترقی کیلئے خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہے وہ نیک نتائج ہی پیدا کرتی ہے۔ اسے برے نتائج کا حامل کوئی نہیں بنا سکتا ۔ ( الفضل ۱۸ جون ۱۹۳۶ء ) فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمُ (النساء: (۴) التحريم: ۷ مسلم کتاب صفات المنافقين باب تحريش الشيطان صفحه ۱۲۲۵، ۱۲۲۶ حدیث نمبر ۱۰ اے مطبوعہ دار السلام ریاض ٢٠٠٠٠ء الطبعة الاولى