خطبات محمود (جلد 17) — Page 385
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۷۶ سال ۱۹۳۶ء کے ساتھ عقائد میں اختلاف رکھتے ہوں تب بے شک جھگڑا ہو سکتا ہے۔ مثلاً خاوند کہتا ہو کہ خدا ایک ہے اور بیوی کہتی ہو کہ خدا ایک نہیں دو ہیں یا تین ہیں ۔ یا ایک شخص کا عقیدہ ہو کہ اس دنیا میں انسان تناسخ کے ذریعہ بار بار آتا ہے اور اس کے باپ کا یہ عقیدہ ہو کہ اس دنیا سے مرکر انسان ایک اور دنیا میں جاتا اور پھر اس جگہ واپس نہیں آتا۔ تو عقائد میں یہ اختلاف جھگڑے کا موجب ہو سکتا ہے لیکن عقائد میں اتحاد کی صورت میں اُس کی بیوی بچے عقیدہ کے راستہ میں حائل نہیں ہوتے اور نہ روک بنتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں بھی جب عقائد میں اختلاف ہو عمل کی وجہ سے ہی روکیں پیدا ہوتی ہیں محض عقائد کی وجہ سے روکیں پیدا نہیں ہوتیں ۔ اس کے مقابلہ میں عمل کی یہ حالت نہیں عمل میں قدم قدم پر بیوی بچوں کی تکلیف انسان کے سامنے آجاتی ہے۔ مثلاً ساری عمر کوئی شخص تسلیم کرتا رہے کہ خدا ایک ہے ایک موقع پر بھی اس عقیدہ کی وجہ سے اس کے بیوی بچوں کی تکلیف اس کے سامنے نہیں آئے گی ۔ مثلاً یہ نہیں ہوگا کہ اس شخص کی بیوی بھو کی رہتی ہو اس وجہ سے کہ وہ ہے خدا کو ایک سمجھتا ہے۔ یا اسے پہنے اور تن ڈھانکنے کیلئے کپڑا نہ ملتا ہو اس لئے کہ اس کا خاوند کہتا خدا ایک ہے۔ یا اُسے اپنی بیمار بیوی کے علاج کیلئے کوئی پیسہ نہ ملتا ہو اس لئے کہ وہ کہتا ہے میں الله وسام رسول مانتا ہوں ۔ غرض انسان کے اہلی فرائض کی ادائیگی میں عقائد اتنے روک نہیں محمد ﷺ کو سچا رسول ما بنتے جتنا عمل روک بن جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں بے شک عقائد کا اختلاف بھی بہت بڑی روک بن جاتا ہے مگر یہ اُس وقت ہوتا ہے جب کسی نبی کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہے اور عقائد کے اختلاف پر اپنے عزیز اور رشتہ دار بھی شور مچانے لگ جاتے ہیں لیکن اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس وقت بھی مسائل کا اختلاف اتنی دشمنی کا باعث نہیں ہوتا جتنا اعمال کا اختلاف دشمنی کا باعث بنتا ہے۔ آج جو دنیا میں ہم سے دشمنی کی جا رہی ہے اور لوگوں کو ہم پر غصہ ہے وہ دشمنی اور غصہ انہیں اتنا اس بات پر نہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کیوں مانتے ہیں جتنا غصہ انہیں اس بات پر ہے کہ یہ ہمارے پیچھے نمازیں کیوں نہیں پڑھتے ، ہمارے جنازے کیوں نہیں پڑھتے ، ہمیں لڑکیاں کیوں نہیں دیتے۔ اگر خدانخواستہ ہماری جماعت کمزوری دکھائے اور وہ غیر احمدیوں کے جنازے پڑھنے لگے، اُن کے پیچھے نمازیں ادا کر نے لگے، اُنہیں لڑکیاں دینے لگے تو آج ہماری جس قدر مخالفت ہے یہ جھاگ کی طرح بیٹھ جائے یا بہت ہی خفیف رہ جائے ۔ تو