خطبات محمود (جلد 17) — Page 382
خطبات محمود ۳۸۲ سال ۱۹۳۶ء ہے اور ایک دکاندار اُٹھ کر نماز پڑھنے چلا جاتا ہے ، دوسرا دُکاندار اسے دیکھتا اور جھٹ خیال ہے کرتا ہے کہ یہ تو اس وقت نماز پڑھنے چلا گیا ہے اگر میں اس وقت اپنی دکان کھلی رکھوں تو کئی گا سک مجھ سے سو دالے لیں گے اور اس طرح مجھے دوسرے سے چار آنے یا آٹھ آنے کا زیادہ فائدہ ہو جائے گا۔یہ خیال آنے پر ادھر تو نماز کی تیاری ہورہی ہوگی اور ادھر یہ اپنی دکان کھولے گاہکوں کے انتظار میں بیٹھا ہو گا لیکن خدا تعالیٰ کی توحید اور محمد ﷺ کی رسالت اس طرح بار بار اس کی کے سامنے نہیں آتی۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چونکہ اعمال پر اسے بار بار توجہ کرنی پڑتی ہے اس لئے کبھی وہ سست اور غافل ہوجاتا اور عملی اصلاح کا پہلو ذاتی مفاد کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔اعمال پر بار بار توجہ دینے کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہو۔جس طرح وہ شخص جو گھوڑے پر سوار ہوا سے ہر وقت ہوشیار رہنا پڑتا ہے اسی طرح مؤمن کو بھی ہر وقت اپنے اعمال پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے اور اگر وہ ایک لمحہ کیلئے بھی غافل ہو جائے تو گر جاتا اور اعمال کی اصلاح میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔(اس موقع پر حضور نے فرمایا مدرسوں کے اساتذہ کو چاہئے کہ وہ طالب علموں کو بتا دیا کریں کہ جمعہ کے وقت حرکات کرنی منع ہیں۔طالب علم اس وقت میر سامنے بیٹھے ہیں اور ان میں سے ساٹھ فیصدی برابر ایک دوسرے کو اشارے کر رہے ہیں۔یہ نہایت ہی شرمناک حرکت ہے جو خطبہ کے آداب اور اس کے احترام کے سراسر خلاف ہے۔بچوں کی کو کم سے کم ابتدائی دینی تعلیم تو اس قدر دینی چاہئے کہ وہ خطبہ کے وقت ہر قسم کی حرکات سے بچیں اور یہ صرف بچوں کا سوال نہیں بعض بڑے آدمی بھی ایسی حرکات کرتے رہتے ہیں )۔تو عملی اصلاح میں یہ وقت پیش آتی ہے کہ اس کا ہر وقت خیال رکھنا پڑتا ہے اور چونکہ ہر وقت خیال نہیں رکھا جا سکتا اس لئے سستی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ بیسیوں طبائع ایسی ہیں جو ہر وقت عملی اصلاح کا خیال نہیں رکھ سکتیں۔جہاں ان کا خیال اِدھر اُدھر ہوا اور انہوں نے عملی اصلاح سے غفلت کی فوراً ان کا قدم ڈگمگا جاتا ہے وہ ہیں دفعہ بددیانتی سے بچتے ہیں لیکن اکیسویں دفعہ ہوشیار نہیں ہوتے اور کوئی فریب کر بیٹھتے ہیں اور جب ایک فریب کرتے ہیں تو اس کے بعد دوسرا فریب کرتے ہیں اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا کیونکہ اگر ایک دفعہ بھی دیانت کی زمام انسان کے ہاتھ سے نکل جائے تو وہ ہمیشہ کیلئے نکل جاتی ہے اور پھر اسے تھامنے