خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 382

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۷۳ سال ۱۹۳۶ء و لکھتی ہیں کہ آپ کی تحریک کا اثر نہ صرف مسلمانوں پر ہوتا ہے بلکہ ہندوؤں کے ایک طبقہ پر بھی ہوتا ہے کیونکہ میں جانتی ہوں کہ ہندوؤں کا ایک طبقہ اندرونی طور پر آپ کی باتوں پر نگاہ رکھتا اور انہیں قدرومنزلت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ بات جس کے متعلق انہوں نے اپنے خط میں تحریک کی ہے یہ ہے کہ لڑکیوں کی شادی عام طور پر ان جگہوں پر نہیں کی جاتی جس جگہ شادی کرنا وہ اپنے لئے مناسب خیال کرتی ہیں اس کی کے نتیجہ میں وہ بھتی وہ لکھتی ہیں کہ بہت ۔ ہ بہت سے پھر بر سے گھر برباد ہوں ۔ بر باد ہو رہے ہیں اور بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں شادی کرنے سے ہی انکار کر دیتی ہیں۔ چونکہ وہ ایک ایسے پیشہ سے تعلق رکھتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں ہر مذہب و ملت کے گھرانوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے وہ اس بات سے بہت ہی متاثر نظر آتی ہیں کہ بیسیوں گھرانے تباہی و بربادی کا منہ دیکھ رہے ہیں ۔ میں چونکہ اور کوئی ذریعہ ان تک اپنے خیالات کے پہنچانے کا نہیں دیکھتا اس لئے میں انہیں خطبہ کے ذریعہ ہی اس امر سے آگاہ کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کی تعلیم اس باب میں بالکل صاف اور واضح ہے یا یوں کہنا چاہیئے کہ اسلام کی تعلیم اس باب میں بالکل صاف اور واضح ہے کیونکہ ہماری جماعت کسی نئے مذہب پر قائم نہیں بلکہ اسلام کی تعلیم کو ہی دنیا میں قائم کر رہی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ نکاح پسندیدگی پر بنی ہوتا ہے لے اور رسول کریم ﷺ نے اس حکم کی توضیح اور تشریح میں نہایت ہی مفصل ہدایات دی ہیں جن کے ہوتے ہوئے کوئی انسان دھوکا نہیں کھا سکتا۔ ان امور کی طرف میں ہمیشہ ہی جماعت کو توجہ دلاتا رہتا ہوں لیکن چونکہ ان کو صرف خطبات جمعہ پڑھنے کا موقع ملتا ہے اور خطبات جمعہ میں اس قسم کے مضامین بہت کم آتے ہیں ۔ یہ مضامین زیادہ تر نکاح کے خطبات میں بیان ہوئے ہیں اور وہ ان کی نگاہ سے نہیں گزرتے اس لئے انہیں یہ خیال گزرا کہ شاید میری طرف سے اس بات پر ابھی تک پورا زور نہیں دیا گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ نکاح کے خطبے اس تعہد اور احتیاط سے شائع نہیں ہوتے جس تعہد اور احتیاط سے جمعہ کے خطبے شائع ہوتے ہیں مگر پھر بھی کئی خطبے وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں بعض سالوں میں آٹھ دس خطبات نکاح ضرور شائع ہو جاتے ہوں گے۔ ان میں اکثر انہی امور پر بحث ہوتی ہے کہ عورتوں کے مردوں پر کیا حقوق ہیں ، مردوں