خطبات محمود (جلد 17) — Page 381
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۷۲ ۲۱ سال ۱۹۳۶ء اعتقادی اصلاح کی نسبت عملی اصلاح کیوں مشکل ہے (فرموده ۱۲ جون ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- مجھے اس ہفتہ کے دوران میں ایک خط ایک ہندو تعلیم یافتہ خاتون کا ملا ہے جس میں انہوں نے اس خیال سے کہ اُن کا پتہ لوگوں پر ظاہر نہ ہو جائے اپنے پستہ کو چھپایا ہے لیکن نام اور کام وغیرہ اور اپنے خاوند کے کام کا انہوں نے ذکر کیا ہے ۔ میں وہ نام بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتا تا کہ اُن کیلئے کوئی ایسی صورت پیدا نہ ہو جو تکلیف دہ ہو لیکن چونکہ انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ میں ان پیدا نہ ہو دہ ہو نے یہ کی ۔ ہو ہویا کے سوال کا جواب کسی خطبہ کے ذریعہ سے دوں اس لئے اس حد تک ان کی خواہش کے مطابق میں مجبور ہوں کہ خطبہ میں ان کی اس بات کا ذکر کروں ۔ ۔ ۔ وہ ایک تعلیم یافتہ ہندو خاتون ہیں اور ان کے خط سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں تعصب نہیں بلکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ جس سوال کے متعلق انہوں نے مجھ سے دریافت کیا ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ جس سوال کے متعلق انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں اُس پر خطبہ میں روشنی ڈالوں اس کی تحریک وہ کہتی ہیں کہ انہیں اس لئے ہوئی کہ کسی احمدی خاتون سے وہ میرے خطبات لے کر کچھ مدت سے پڑھ رہی ہیں اور ان کے ذہن میں یہ کہ احمدیہ بات آئی ہے کہ شاید اس معاملہ کے متعلق اگر میں تحریک کروں تو نہ صرف جماعت احمد یہ کیلئے بلکہ باقی لوگوں کیلئے بھی ہدایت کا موجب ہو سکے ۔