خطبات محمود (جلد 17) — Page 356
خطبات محمود ۳۵۶ سال ۱۹۳۶ء خلاف ہو میں اس میں دخل نہیں دوں گا۔ہاں خلاف ہونے کی صورت میں جیسا کہ میں نے پہلے تو بھی اعلان کر دیا تھا میرا فرض ہوگا کہ لیگ سے جواب طلب کروں یا اُسے مناسب ہدایات دوں لیکن جس حد تک کہ لیگ کا کوئی قدم اور سلسلہ کی تعلیم و اصول با ہم ٹکراتے نہیں ہم اسے پوری آزادی دیں گے کہ سیاسی معاملات میں جس حد تک وہ دوسری قوموں سے تعاون کر سکتی ہے کرے صرف یہ پابندی اس پر ہوگی کہ اس کا کوئی قدم سلسلہ کی تعلیم کی خلاف نہ ہو۔پس میرے اس اعلان کے بعد لیگ کے اس کام کو جو اس کے دائرہ عمل کے اندر ہے سلسلہ کی طرف منسوب کرنا سخت غلطی ہے۔من حیث النجماعت جماعت احمد یہ سیاسی کاموں میں حصہ نہیں لے سکتی مگر نیشنل لیگ کے ممبر اس کے ممبر ہونے کی حیثیت سے حصہ لے سکتے ہیں۔جیسا کہ وہ احمدی جو مسلم لیگ یا مسلم کانفرنس کے ممبر ہیں ان کے اندر سیاسیات میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ جماعت احمدیہ کے نمائندہ اور اس کی پالیسی کے نمائندہ نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ان کے فیصلوں کی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر عائد ہوسکتی ہے۔کسی احمدی کا مسلم لیگ کا ممبر ہو جانے کے یہ معنے ہرگز نہیں ہو سکتے کہ جماعت احمد یہ من حیث الجماعت سیاسیات میں حصہ لے رہی ہے اور نہ ان کے فیصلوں کا اثر من حیث انجماعت جماعت احمدیہ پر پڑے گا۔اگر کوئی احمدی ممبر کسی فیصلہ کی تائید کرتا ہے تو اس کے یہ معنے ہرگز نہیں کہ ساری جماعت ان فیصلوں کی پابند ہے۔وہ شخص شخصی حیثیت سے وہاں رائے دے کر آیا ہے اور اگر وہ فیصلہ سے متفق ہے تو وہ شخصی طور پر اُس وقت تک اس کا پابند ہے جب تک کہ جماعت کی طرف سے اُسے روک نہ دیا جائے۔اسی طرح نیشنل لیگ اگر کوئی فیصلہ کرتی ہے تو جماعت احمدیہ اس کی ذمہ دار اور پابند نہیں ہوگی۔جماعت کا صرف اتنا کام ہوگا کہ جب وہ کوئی ایسا کام کرے جو بالبداہت اور بالصراحت سلسلہ کی روایات اور اس کے اصول کے خلاف ہوا سے روک دے اور کہہ دے کہ آپ کے بحیثیت افراد جماعت احمدیہ ہونے کے ہم آپ کو کوئی ایسا کام نہیں کرنے دیں گے جس سے جماعت پر حرف آئے۔پس لاہور میں پنڈت جواہر لال نہرو کا جو استقبال ہوا وہ جماعت کی طرف سے نہیں بلکہ نیشنل لیگ کی طرف سے تھا۔نیشنل لیگ کو نیشنل لیگ کے ماتحت ہے اور بحیثیت اس اقرار کے جوکور میں بھرتی ہوتے وقت ہر شخص نیشنل لیگ سے کرتا ہے وہ پابند ہے کہ جب اسے وہ آواز