خطبات محمود (جلد 17) — Page 356
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۴۷ سال ۱۹۳۶ء ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک ٹوپی اپنے سر پر اوڑھ لی اور درخت پر چڑھ گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد جب ٹوپیوں والے کی آنکھ کھلی تو اُس نے دیکھا کہ ٹوپیاں غائب ہیں وہ حیران ہوا اور اُس نے سمجھا کہ کوئی چور اُٹھا کر لے گیا ہے مگر اتفاقاً اس نے اوپر جو دیکھا تو بیسیوں بندر اُسے ٹوپیاں پہنے ہوئے دکھائی دیئے۔ یہ دیکھ کر اُس نے بندروں کو ڈرایا اور دھمکایا مگر انہوں نے کسی طرح ٹوپیاں نہ اُتاریں۔ آخر اس نے درخت کا پھل جو نیچے گرا ہوا تھا بندروں کو مارنا شروع کیا۔ جب بندروں نے دیکھا کہ یہ پھل اُٹھا اُٹھا کر ہمیں مار رہا ہے تو انہوں نے بھی درخت کے پھل توڑ تو ڑ کر اُسے مارنا شروع کر دیا۔ اب چاروں طرف سے جو اُسے پھل لگے تو وہ گھبرا گیا مگر آخر اللہ تعالیٰ نے اسے عقل سے کام لینے کی توفیق دی اور اس نے سمجھا کہ یہ تو محض میری نقل کر رہے ہیں ۔ اب میں کوئی ایسا طریق سوچوں جس سے یہ ٹوپیاں میری طرف پھینک دیں۔ اس خیال کے آنے پر اُس نے اپنی ٹوپی سر سے اُتاری اور زور سے اسے زمین پر دے مارا۔ یہ دیکھتے ہی سب بندروں نے ٹوپیاں اپنے اپنے سر سے اتاریں اور زور سے زمین پر پھینک دیں اس تاجر نے انہیں اکٹھا کر لیا اور آگے روانہ ہو گیا۔ بچوں کی بھی یہی حالت ہوتی ہے وہ بغیر عقل سے کام لئے دوسروں کی نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جس وقت وہ عقل کی عمر کو پہنچتے ہیں اور انہیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ یہ فعل بُرا ہے تو اُس وقت وہ اُن کی عادت میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ بسا اوقات اپنی ماں کو دیکھتے ہیں کہ وہ و ان میں داخل ہو ہوتا ہے۔ وہ بسا اپنی ماں کو ہیں نمازوں میں سستی کرتی ہے پھر وہ دیکھتے ہیں کہ اُن کا باپ گھر میں آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ نماز پڑھی؟ تو وہ جواب میں کہہ دیتی ہے ابھی تو نہیں پڑھی پڑھ لوں گی ۔ بچہ یہ جواب سنتا اور دل میں کہتا ہے کہ مجھ سے بھی جب کسی نے پوچھا کہ نماز پڑھی ہے؟ تو میں کہہ دوں گا ابھی نہیں پڑھی پڑھ لوں گا ۔ چنانچہ جب وہ ہوش سنبھالتا ہے اور باپ اُس سے پوچھتا ہے نماز پڑھی تو وہ کہہ دیتا ہے ابھی نہیں پڑھی پڑھ لوں گا۔ پھر وہ دیکھتا ہے کہ باپ گھر میں ناراض ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ تم نے نماز پڑھی؟ تو ماں جواب دیتی ہے اوہ ! میں بھول گئی تھی بچہ یہ جواب سنتا اور دل میں کہتا ہے یہ اچھا نسخہ ہے مجھ سے بھی جب کسی نے پوچھا نماز پڑھی؟ تو میں کہہ دوں گا اوہ ! میں بھول گیا تھا۔ پھر بھی وہ دیکھتا ہے کہ باپ جب پوچھتا ہے کہ نماز پڑھی تو ماں جھوٹ بول کر کہہ دیتی ہے کہ میں نے نماز