خطبات محمود (جلد 17) — Page 349
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۴۰ سال ۱۹۳۶ء صلى عل صلى الله نیکی نہیں اور اگر ماں باپ کی اطاعت سب سے بڑی نیکی ہے تو تہجد سب سے بڑی نیکی نہیں مگر رسول کریم ﷺ ان میں سے ہر ایک کو بڑی نیکی قرار دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ رسول کریم کا منشاء کیا تھا ؟ صاف ظاہر ہے کہ آپ کا منشاء سب سے بڑی نیکی سے وہ نہ تھا جو عُرفِ عام میں سمجھا جاتا ہے بلکہ آپ کا منشاء یہ تھا کہ در حقیقت ہر انسان کیلئے سب سے بڑا کام الگ الگ ہوا کرتا ہے۔ ایک انسان ایسا ہوتا ہے جس کے دل میں ماں باپ کی عظمت نہیں ہوتی لیکن وہ روپیہ اُڑا دینے کا عادی ہوتا ہے اگر اسے خدا تعالیٰ کے دین کی راہ میں روپیہ خرچ کرنے کے ثواب کا علم نہ ہو تب بھی وہ دنیوی کاموں پر روپیہ اڑا دینے کی عادت رکھتا ہے۔ چنانچہ ایسے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں جو کنچنیوں کے ناچ پر اپنی جائدادیں دے دیتے ہیں۔ ایسے لوگ دُنیا میں پائے جاتے ہیں جو ڈوموں کے لطیفوں پر اپنے قیمتی اموال لٹا دیتے ہیں ، ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو آدھ گھنٹہ کے جوا کی خاطر اپنی جائدادیں برباد کر دیتے ہیں ، ایسا انسان اگر خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جائداد دے دیتا ہے تو وہ کونسا بڑا کام کرتا ہے اُس کے نزدیک تو جائداد کی کوئی قیمت ہی نہیں کہ اُس کی اس نیکی کو بڑی نیکی قرار دیا جا سکے ۔ ایسے انسان کی سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ وہ جُوئے سے تو بہ کرے۔ ایسے شخص کیلئے چوری سب سے بُرا فعل نہیں کیونکہ چوری کی طرف اسے رغبت نہیں ، ایسے شخص کیلئے سب سے بڑا گناہ ظلم نہیں کیونکہ ظلم کی طرف اسے توجہ نہیں ، ایسے شخص کیلئے سب سے بڑا گناہ جھوٹ نہیں کیونکہ جھوٹ سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ، ایسے شخص کیلئے سب سے بڑا گناہ قتل نہیں کیونکہ قتل کا جذبہ اُس کے دل میں کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا ، ایسے شخص کا سب سے بڑا گناہ جو اُ ہے کیونکہ بڑا گناہ وہی ہے جس کی عادت ہو جائے اور جس کا چھوڑ نا انسان کو مشکل روه معلوم ہو ۔ اس تعریف کے مطابق ایک ایسا انسان بھی ہو سکتا ہے جس کا سب سے بڑا مونچھیں نہیں تر شوا تا ۔ وہ چور بھی نہیں ہوگا ، وہ ڈا کو بھی نہیں ہوگا ، وہ جھوٹ بھی نہیں بولے گا ، وہ دھوکا اور فریب بھی نہیں کرے گا مگر انگریزوں کو دیکھ کر چونکہ اُسے مونچھیں بڑھانے کی عادت ہو چکی ہوگی اس لئے ہم اس کے متعلق کہیں گے کہ اس کا سب سے بڑا گناہ مونچھیں بڑھانا ہے۔ حضرت خلیفة امسیح الاوّل اپنے ایک عزیز کا جو وہابی خیالات رکھتا تھا واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ کوئی بڑا رئیس آپ سے ملنے آیا۔ وہ تہہ بند تکبر سے لٹکا کر چلا کرتا تھا اور اُس