خطبات محمود (جلد 17) — Page 336
خطبات محمود ۳۳۶ سال ۱۹۳۶ء ایک دفعہ کچھ نو جوانوں نے گفتگو کی اور کہا ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اسلام کا داڑھی سے کیا تعلق ہے اور اسلام کو اس سے واسطہ کیا ہے کہ ہم اپنے منہ پر چند بال رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے ہیں؟ میں نے کہا واقعہ میں اسلام کو ہرگز اس سے کوئی تعلق نہیں کہ کوئی اپنے منہ پر داڑھی رکھتا ہے یا نہیں مگر اسلام کو اس بات سے ضرور تعلق ہے کہ محمد ﷺ کی اطاعت کی جائے ، ان کی باتوں کو قبول کیا جائے اور ان کے نمونہ کو اختیار کیا جائے۔پس یہ سوال نہیں کہ اسلام کا داڑھی سے تعلق ہے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اسلام کا محمد ﷺ کی اطاعت سے تعلق ہے یا نہیں۔اگر تعلق ہے تو پھر ضروری ہے کہ داڑھی کے معاملہ میں بھی محمد ﷺ کی اطاعت کی جائے اور جو شخص محمد ﷺ کی اتنی چھوٹی سی بات ماننے کیلئے تیار نہیں اس سے کب توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ بڑی بڑی قربانیوں کیلئے تیار ہو سکے گا۔جو شخص ایک پیسہ دینے کیلئے تیار نہیں وہ ہزار روپیہ کہاں دے سکتا ہے۔جب اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی ہماری جماعت اس بات کی بھی محتاج ہے کہ اُسے بار بار سمجھایا جائے اور وعظ کیا جائے تو وہ بڑے بڑے عظیم الشان تغیرات جو اسلام کے مد نظر ہیں اور جن تغیرات کے پیدا کرنے کیلئے انسان کو اپنا نفس قربان کر دینا پڑتا ہے اُن کی باری ہی کب آئے گی۔ابھی تو سر پر بودے رکھنا اور داڑھیاں منڈوانا اور موچھیں بڑھانا اور نکٹائیاں لگانا اور پتلونیں پہننا اور سگریٹ نوشی کرنا اور حقہ پینا یہی باتیں ہماری توجہ کو کھینچے ہوئے ہیں حالانکہ وہ تغیر جو اسلام تمدنِ عالم میں پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ تغیر جس کے ماتحت اسلام تمام دنیا کو ایک سطح پر لانا چاہتا ہے، وہ تغیر جس کے ماتحت امیر اور غریب کا فرق اور حکومت اور رعایا کا امتیاز مٹ جاتا ہے اس کیلئے بہت کی بڑی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے مگر ہمیں اپنے اندرا بھی اُن قربانیوں کا مادہ ہی نظر نہیں آتا۔گویا ہماری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک اتنا عظیم الشان محل تیار کرنا ہے جس میں ساری دنیا نے آرام کرنا ہے مگر اس کے سامانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ابھی کدال تلاش کر رہا ہے جس سے وہ ذراسی مٹی کھرچ سکے۔جس شخص کو ایک کدال بھی میسر نہیں کہ وہ اس سے بنیاد کھود سکے اور اس میں اینٹیں رکھ سکے وہ عظیم الشان محل کب تیار کرے گا اور کب ساری دنیا کو اپنے محل میں داخل کرنے کا کی پروگرام پورا کرے گا۔پس یہ ایک معمہ ہے جو ہمارے سامنے ہے اور یہ معمہ ہے جسے ہم نے حل کرنا ہے اگر ہم