خطبات محمود (جلد 17) — Page 310
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۰۱ سال ۱۹۳۶ء چاہئے اور ہمارے اندر زیادہ بیداری اور ہوشیاری ہونی چاہئے ۔ صلى الله میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ آئندہ کے خطرات کو محسوس کرو، اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور ان قربانیوں کی طاقت اپنے اندر پیدا کرو جن کے نتیجہ میں محفوظ رہ سکومگر بعینہ اس طرح جس طرح ایک افیونی کو جگایا جاتا ہے مگر وہ پھر سو جاتا ہے، پھر جگایا جاتا ہے اور پھر سو جاتا ہے، جماعت کے دوستوں کو جگایا جاتا اور ہوشیار کیا جاتا ہے اور وہ قربانی کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں مگر پھر سو جاتے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ کب تک کوئی گلا پھاڑتا رہے گا اگر یہی حالت رہی تو تم سمجھ سکتے ہو اس کا انجام کیا ہوگا ۔ یہ مت خیال کرو کہ خدا کے وعدے تمہاری کامیابی کیلئے ہیں خدا تعالیٰ کے وعدے مشروط ہوتے ہیں اور اگر انسان اپنے آپ کو ان کا مستحق بنائے تو وہ پورے ہوتے ہیں ۔ کیا رسول کریم ﷺ سے جنگ احد میں کامیابی کے اللہ تعالیٰ کے وعدے نہ تھے پھر کیا صرف دس آدمیوں کی غلطی سے وہ فتح شکست نما نہ ہو گئی تھی؟ پس اگر ایک ہزار میں سے دس کی غلطی فتح کو شکست نما بنا سکتی ہے تو آج تم میں سے ہزاروں کی غفلت سے تمہاری فتح شکست نما کیوں نہیں بن سکتی ۔ ہمارے لوگ اس بات پر مطمئن ہیں بالکل اسی طرح جس طرح غافل اور تباہ ہونے والی قو میں ہوتی ہیں کہ وہ ایک آئینی حکومت کے ماتحت آباد ہیں اور کہ انگریز منصف اور عادل ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان کو سبق دیا ہے کہ جن انگریزوں پر تم انحصار کر سکتے ہو وہ بھی تمہارے دشمن ہو سکتے ہیں مگر افسوس کہ ہمارے دوستوں کی آنکھیں ابھی تک نہیں کھلیں ۔ میرے بار بار کے ۔ خطبات کے باوجود بعض دوست لکھتے رہتے ہیں کہ ہماری سفارش کرد و حالانکہ آجکل حکومت کے بعض انگریز افسر بھی جماعت احمدیہ کے شدید دشمن ہیں ایسے ہی دشمن جیسے چوہدری افضل حق صاحب اور مولوی عطاء اللہ صاحب ۔ ہم پر صریح ظلم کیا جاتا ہے، صریح جھوٹ ہمارے متعلق بولا جاتا ہے مگر ایسے افسر کوئی توجہ نہیں کرتے بلکہ ایسا کرنے والوں کو انگیخت کرتے ہیں مگر ہم میں سے بعض بے حیا بن کر کہتے ہیں کہ ہماری سفارش کرو۔ مجھے اُس وقت حیرت ہوتی ہے کہ انسان بے حیائی میں کتنا کمال تک پہنچ سکتا ہے وہ ان باتوں کو شاید مبالغہ اور مذاق سمجھتے ہیں جو باتیں مجھے معلوم ہیں وہ تو بہت بڑی ہیں مگر جتنی میں نے بتائی ہیں ان کا ہزارواں حصہ بھی اگر ایک شخص کے متعلق ثابت ہو تو میں موت کو اس کے پاس سفارش کرنے کو ترجیح دوں ۔ تمہارے دل میں تو ان باتوں کا اتنا