خطبات محمود (جلد 17) — Page 307
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۹۸ ۱۷ سال ۱۹۳۶ء تحریک جدید کے مطالبات کے متعلق جماعت کو انتباہ (فرموده ۱۵ رمئی ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد سورہ ابراہیم کی آیت وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمُ لَنُخْرِ جَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّلِمِينَ لا تلاوت کی اور پھر فرمایا :- میں نے بار بار جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مشکلات اور ابتلاؤں کیلئے تیار کریں جو مستقبل میں ان کا انتظار کر رہے ہیں مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آرام یا آرام تو نہیں کہنا چاہئے آرام طلبی جو موجودہ طرز رہائش کی وجہ سے خصوصاً ہندوستانیوں میں پیدا ہورہی ہے اس کی وجہ سے اکثر دوست اس بات کی جو میں کہتا ہوں اہمیت کو نہیں سمجھتے اور اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کیلئے آمادہ وتیار نظر نہیں آتے ۔ میں اپنی جماعت کے متعلق یہ تو نہیں سمجھتا کہ ایسا ہو لیکن بعض دفعہ بد قسمتی سے انسان کی آنکھیں ایسی بند ہو جاتی ہیں کہ وہ نتائج اور انجام سے غافل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ مصیبت آکر اُسے پکڑ لیتی ہے۔ ہزاروں بادشاہتیں اور حکومتیں اسی طرح تباہ ہو گئیں کہ ان بادشاہتوں اور حکومتوں والے اپنے خیال میں اس یقین اور اطمینان سے بیٹھے رہے کہ کوئی دشمن ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ ہندوستان میں انگریزوں کا تسلط اسی رنگ میں ہوا۔ یہاں کے حکمرانوں کو انہوں نے آپس میں لڑا دیا اور ان میں سے ہر ایک یہی سمجھتا رہا کہ ہم اپنے دشمن کو مار رہے ہیں اور کسی نے بھی یہ خیال نہ کیا کہ اپنے آپ کو مار رہے ہیں ۔