خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 283

خطبات محمود ۲۸۳ سال ۱۹۳۶ گفتگو کو خواب کے رنگ میں بیان کیا گیا تھا اور ایک میں نامہ نگار کی طرف سے وہ گفتگو بیان کی گئی تھی۔مگر ایک میں تو لکھا تھا کہ میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو خوب ڈانٹا اور دوسری میں یہ لکھا تھا کہ چوہدری صاحب نے مجھے خوب ڈانٹا۔ایک میں تو میں انہیں ڈانٹتا ہوں کہ آپ کچھ بھی نہیں کرتے وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر آپ کو کیوں بنایا گیا تھا جب آپ ہماری مشکلات کو جی دور کرنے کیلئے کوئی علاج نہیں کرتے۔اور دوسری میں وہ مجھے ڈانٹتے ہیں کہ میں تدبیریں کر کے تھک جاتا ہوں مگر تم اپنی بیوقوفی سے کام خراب کر دیتے ہو۔میں سمجھتا ہوں یہ خبر میں جس نے لکھیں وہ کوئی معمولی نامہ نگار نہ تھا کیونکہ میری ملاقات کے وقت ملنے والے احمدی کے سوا اور میرے سوا دوسرا کوئی شخص وہاں موجود نہیں ہوتا۔صرف جب غیر شخص ملنے والا ہو تو دفتر کا کوئی آدمی یا کوئی اور دوست وہاں موجود ہوتے ہیں کسی احمدی کی ملاقات کے وقت ایسا نہیں کیا جاتا۔پس جبکہ وہ بالکل الگ کمرہ تھا جس میں گفتگو ہوئی اور اُس وقت اور کوئی تیسرا آدمی پاس موجود نہ تھا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ نامہ نگار آدمی نہیں تھا بلکہ یہ تو چھیلی تھا یا کھی یا چیوٹی تھایا کوئی سنپولیا تھا جوکسی بد روس میں چھپا بیٹھا تھا بہر حال وہ انسان نہیں ہو سکتا۔یا پھر یہ تسلیم کرنا پڑتا کہ احرار کو کوئی ایسا طلسم آگیا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ لکھی بن کر میری پگڑی پر یا چوہدری صاحب کے کوٹ پر بیٹھ جاتے ہیں لیکن خبر بھی نہیں ہوتی کہ کمرہ میں کوئی اور آدمی ہے اور ہم راز کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں مگر مجاہد اور احسان“ کا نامہ نگار لکھی بنا خود ہمارے کپڑوں پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے اور ہنس ہنس کر کہتا جاتا ہے کہ آج ان کا راز خوب معلوم ہوا اور پھر بعد میں شائع کر دیتا ہے۔غرض کوئی احمق یہ نہیں سوچتا کہ وہ نامہ نگار کہ جس نے وہ خبر لکھی اس وقت بیٹھا کہاں تھا اور اس نے وہ گفتگو سنی کس طرح سے جو میرے اور چوہدری صاحب کے درمیان ہوئی۔خواہ اس کی کا کوئی موضوع ہو وہ احسان یا ”مجاہد کے نامہ نگار کو معلوم کس طرح ہو گئی جبکہ گفتگو جس وقت ہوئی اُس وقت کمرہ میں اور کوئی آدمی نہ تھا۔اور یہ طریق صرف چوہدری صاحب سے مخصوص نہیں کی جماعت کے وہ ہزاروں دوست جو سال بھر میں مجھ سے ملتے ہیں جانتے ہیں کہ وہ اکیلے ملتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ خود کسی دوسرے دوست کو ساتھ لے آئیں۔یا سوائے مشتبہ لوگوں کے کہ ان کی کی گفتگو کے وقت کسی گواہ کا موجود رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح چوہدری صاحب مجھ سے