خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 28

خطبات محمود ۲۸ سال ۱۹۳۶ء دین کیلئے وقف کر دیا تھا۔اس وقت بھی مرکز میں بعض ہمت رکھنے والے پنشنرز اسی تحریک کے ماتحت کام کر رہے ہیں مثلاً خان صاحب فرزند علی صاحب، بابوسراج الدین صاحب ، خان صاحب برکت علی صاحب، مرزا عبد الغنی صاحب، ملک مولا بخش صاحب ، خان بہا در غلام محمد صاحب اور بعض اور بھی ہوں گے جن کے نام مجھے اس وقت یاد نہیں۔وہ روٹی سرکار سے کھاتے ہیں اور کام خدا تعالیٰ کا کرتے ہیں۔لیکن میں یہ کس طرح تسلیم کرلوں کہ ہماری جو لاکھوں کی جماعت ہے اس میں یہ پانچ سات ہی پینشنز ہیں اور کوئی نہیں۔میں سمجھتا ہوں اس سے کہیں زیادہ تعداد میں پنشنر ہماری جماعت میں ہیں وہ ذرا ہمت سے کام لیں اور ارادہ پیدا کریں تو کافی تعداد میں کام کرنے والے ہمیں مل سکتے ہیں۔پس آج میں پھر اُن دوستوں کو جو پنشنز ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سلسلہ کی خدمات کیلئے اپنے آپ کو وقف کریں تا ان کی زندگی کے آخری ایام اللہ تعالیٰ کی رضا اور بنی نوع انسان کی بہتری کے کاموں میں صرف ہوں۔اس سے زیادہ کسی انسان کی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ بغیر قربانی کے اُسے ثواب ملتا جائے۔پنشن کو کھانے پینے اور پہننے کیلئے روپیہ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے گزشتہ زندگی کے کام کے بدلہ میں اسے روپیل کی رہا ہوتا ہے خواہ وہ ماہوار پنشن کی صورت میں یا پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں۔اب بقیہ زندگی میں وہ دین کی خدمت کر کے مفت میں ثواب حاصل کر سکتا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا وارث ہوسکتا ہے۔پھر میں نہیں سمجھتا وہ کیوں وقت ضائع کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو خدمت دین کیلئے کیوں پیش نہیں کرتے ؟ یہ مت خیال کرو کہ اتنے کام کس طرح نکل سکتے ہیں؟ ہزاروں کام ایسے ہیں جو ہم نے کرنے ہیں، ہزاروں قسم کی اصلاحات ہیں جو ہم نے رائج کرنی ہیں، پھر غریبوں ، تیموں اور بیواؤں کی ترقی کیلئے بیسیوں پیشے ہیں جو ہم نے سکھانے ہیں ، اسی طرح علمی ترقیات کیلئے بیسیوں تحریکات جاری کی جاسکتی ہیں اور جاری کرنی پڑیں گی ، پھر اقتصادی ترقی کیلئے بیسیوں کام ہیں جو ہم نے کرنے ہیں۔اور درحقیقت یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے اس میں جس شخص نے مقابلہ کو ایک منٹ کیلئے بھی بھلا یا وہ گیا۔قرآن کریم نے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۵ کہہ کر اور ایک جگہ وَالسَّابِقَاتِ سبقًا ، فرما کر اسی امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس دنیا میں مقابلہ ہو رہا ہے تمہارا فرض ہے کہ اس مسابقت میں سب سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔و۔