خطبات محمود (جلد 17) — Page 277
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۶۸ سال ۱۹۳۶ء انسان حیران ہوتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے دنیا میں بزدلی کیسے رہ سکتی ہے۔ پس مؤمن کو اپنا ایمان پر کھنے کے وقت یہ دیکھنا چاہئے کہ کس حد تک اس کے دل میں جذبہ جرات و بہادری ہے اور کس حد تک جذبہ وفاداری ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں کھانے پینے کا بڑا شوق ہے۔ دوست جب ملتے ہیں تو سوال کرتے ہیں کہ کیا کھلاؤ گے، کیا پلاؤ گے اور جب کھانے لگتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ کھانے پینے کیلئے ہی وہ پیدا ہوئے تھے لیکن یہی لوگ جب ان کے گھروں میں کوئی موت ہو جاتی ہے جب ان کا کوئی عزیز ان سے رخصت ہو جاتا ہے کھانے پینے کی لذت اور خواہش کئی دنوں تک ان کے دل سے جاتی رہتی ہے۔ جب لقمہ منہ میں ڈالتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ حلق میں پھنستا ہے کوئی چیز خواہ کتنی شیریں کیوں نہ ہو تلخ معلوم ہوتی ہے باوجود اس کے کہ لذیذ کھانا منہ میں اور شیریں پانی پیٹ میں جاتا ہے پیٹ اور منہ اسے رڈ کرتے ہیں اور لذت کی بجائے تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔ لیکن دوسری طرف ایسے ایام میں جبکہ اس سے بہت زیادہ مصیبتیں اسلام کیلئے موجود ہوتی ہیں، جب دین پر بڑی بڑی آفتیں نازل ہو چکی ہوتی ہیں ایسی مصیبتیں اور آفتیں کہ ان کے مقابلہ میں گھروں کی مصیبتیں بالکل بیچ ہوتی ہیں ہمارے حالات میں کوئی تغیر نہیں ہوتا ۔ ہمارے منہ بدستور کھانوں سے لذت اندوز ہوتے ہیں اور پیٹ اسی طرح ٹھنڈے پانی کی اشتہا محسوس کرتے ہیں اور دن میں کسی وقت بھی یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ اسلام کیلئے اس قدر مصائب کے ہوتے ہوئے ہم اس آرام اور سکھ کے مستحق نہیں ہیں اور جب دن میں کسی وقت ہم پر یہ حالت طاری نہیں ہم ہوتی تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے قلوب اس محبت سے آشنا ہیں جو حقیقی محبت کہلاتی ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ میں نے کئی بار سنایا ہے رسول کریم ﷺ کی صلى الله وفات کے کئی سال بعد جب ایران سے چکیاں آئیں اور عمدہ آٹا ملنے لگا تو سب سے پہلے جو آٹا تیار ہوا وہ تحفہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کیا گیا اور جب اس کا پھلکا تیار ہو کر آپ کے سامنے آیا تو آپ نے جب ایک لقمہ لے کر منہ میں رکھا تو آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو گرنے لگے ۔ ایک سہیلی پاس بیٹھی تھی اُس نے کہا کہ بی بی ! یہ تو بڑا نرم پھلکا ہے آپ اسے کھاتے ہوئے روتی کیوں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اس کی نرمی ہی میرے لئے رونے کا