خطبات محمود (جلد 17) — Page 272
خطبات محمود ۲۷۲ سال ۱۹۳۶ خوب یا درکھو بُز دل لاکھوں بھی دنیا کو فع نہیں دے سکتے ، بے وفا کروڑوں کسی کام کے نہیں مگر متوکل اور وفا دار چالیس بھی ہوں تو دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔تم سوچو کہ آخر تمہارے اس مقام کو حاصل کرنے میں کیا روک ہے؟ کیا صرف یہی نہیں کہ تم سمجھتے ہو ہم یہ مقام کس طرح حاصل کر سکتے ہیں؟ مگر یا درکھو کہ تم خدا کے سوتیلے بیٹے نہیں ہو۔ابوبکر کو خدا پر اس سے زیادہ حق نہیں تھا تی جو تمہیں ہے، عمر کو اس سے زیادہ خدا تعالیٰ پر حق نہیں تھا جو تمہیں ہے، عثمان اور علی کو اللہ تعالیٰ پر اس کے سے زیادہ حق نہیں تھا جو تمہیں ہے۔اگر تم آج یہ ارادہ کر لو کہ ہم بھی تو کل کے مقام پر کھڑے ہو کر ی اپنے رب سے ایسا رشتہ پیدا کریں گے کہ اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی پرواہ نہ رکھیں گے تو وہی جو ہی ابو بکر کو ملا تمہیں مل سکتا ہے، جو عمر کو ملا تمہیں مل سکتا ہے، جو عثمان اور علی کو ملائم حاصل کر سکتے ہو صرف عزم اور ارادہ کی دیر ہے۔صرف گو دنا اور چھلانگ لگانی ہے اور پھر دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے۔پس تم میں سے جو ہمت والے ہوں وہ یہ عزم کر لیں۔خدا کے قرب کی خواہش تم میں سے جو ر کھتے ہیں میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا بہت قریب ہے اتنا قریب ہے اتنا قریب ہے کہ اگر کوئی نابینا کی طرح آنکھیں بند کر کے ہاتھ پھیلا دے تو اسے چھو سکتا ہے اور اسے چھو کر ایسا نور حاصل کر سکتا ہے جس کے بعد تمام اندھیرے دور ہو جاتے ہیں اور ایسی طاقت حاصل کر سکتا ہے جس کے حاصل ہونے پر شیطان کی تمام طاقتیں مٹ جاتی ہیں۔( الفضل ۷ رمئی ۱۹۳۶ ء ) اے پروہت: خاندانی برہمن جو تمام خاندان کی پوجا پاٹ ، موت اور بیاہ کی رسوم ادا کرتا ہے۔☑° سیرت ابن ہشام جلد ا صفحه ۲۸۵ - مطبوعه مصر ۱۹۳۴ ء سیرت ابن ہشام جلد ا صفحه ۵ ۲۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۴ء اسدالغابۃ جلد ۴ صفحه ۱۴۸ ، مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ ملفوظات جلد ۳ صفحه ۳۴۲۔جدید ایڈیشن